حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 12 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 12

حیات بقاپوری 12 صاحب کو کافر نہیں کہہ سکتا کیونکہ میں نے بارہا قادیان جا کر اپنی آنکھوں سے دیکھا، اُن کی باتیں سنیں ، اُن میں کوئی ایسی بات مجھے نظر نہیں آئی جس کی وجہ سے میں انہیں کافر کہنے کی جرات کروں۔اس پر اس نے لوگوں کو کہنا شروع کیا کہ یہ تو پکا مرزائی ہو چکا ہے اور مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے رسالہ ”ایک غلطی کا ازالہ میں اپنی نبوت کا صاف اعلان کیا ہے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم انہین اور آخری بنی ہیں۔آپ کے بعد آپ کی اُمت میں سے کوئی بھی شخص نبی یا رسول کا خطاب پا کر نہیں آسکتا۔چونکہ میں نے حضرت مسیح موعود کے دعویٰ نبوت پر کبھی غور نہ کیا تھا اور نہ مجھے اس مسئلہ کی حقیقت سے پوری آگا ہی تھی۔اس لیے میں نے اس کے متعلق کسی قسم کی بحث کی طرح نہ ڈالی لیکن مجھے اپنے تجربہ کی بناء پر اور حضرت اقدس علیہ السلام اور جماعت احمدیہ کے عملی نمونہ کو دیکھنے کی وجہ سے پورا اطمینان تھا کہ حضور حق پر ہیں اور آپ کی زندگی قال اللہ وقال الرسول کے مطابق ہے۔انہی دنوں کا عجیب واقعہ ہے کہ جب مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی مجھے احمدیت سے روکنے کے لیے مرالی والا میں مقیم تھے۔دو شخص جو باپ بیٹا تھے آئے اور مولوی عبد الجبار صاحب سے پوچھنے لگے کہ یہ جو مشہور خبر ہے کہ مہدی کے وقت چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان شریف میں ہوگا کیا یہ حدیث صحیح اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے؟ اس کے جواب میں مولوی صاحب کہنے لگے کہ ہاں یہ بالکل صحیح حدیث ہے۔اس پر ان دونوں میں سے بوڑھے نے جو دوسرے نوجوان کا باپ تھا کہا آؤ بیٹا واپس چلیں ہم نے جو کچھ دریافت کرنا تھا کر لیا۔اس پر مولوی صاحب انہیں بلا کر کہنے لگے دیکھو بھئی! کہیں تم مرزا کے پھندے میں نہ پھنس جانا۔وہ کہتا ہے کہ یہ میری صداقت کا نشان ہے۔قرآن کریم میں اس نشان کا ذکر نہیں ہے۔اور اگر اسے مان بھی لیں تو یہ مہدی کی پیدائش کی علامت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی پیدا ہو چکا ہے۔یہ بات سن کر بوڑھا کہنے لگا۔مولوی صاحب میں نے جو کچھ آپ سے پوچھنا تھا وہ آپ نے بتا دیا کہ واقعی اس نشان کا ذکر اور اس پیشگوئی کا بیان حدیث میں آیا ہے۔باقی رہا یہ امر کہ یہ نشان مرزا صاحب کی صداقت دعوی کا ثبوت ہے یا نہیں یا امام مہدی کی پیدائش کی علامت ہے یا نہیں اس کے متعلق عرض ہے کہ میں ہمیشہ زمینوں کا کام کرتا رہا ہوں اور اس دوران میں کئی مقدمے بھی در پیش آئے۔میں دعویٰ کرتا تھا اور مدعا علیہ انکار کر دیتا تھا اور اس پر مجھے گواہ پیش کرنے پڑتے تھے۔ایسا ہی ان دو گواہوں یعنی رمضان شریف کی مقررہ تاریخوں تیرھویں اور اٹھائیسویں میں چاند گرہن اور سورج گرہن نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی