حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 13 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 13

حیات بقاپوری 13 پیشگوئی اور خبر غیب کے مطابق ثابت کر دیا کہ دنیا میں کوئی مدعی مہدویت موجود ہے جس کا انکار کیا جارہا ہے اور اس کی صداقت دعوئی پر اللہ تعالیٰ نے تیرہ سو سال کی پیشگوئی کے مطابق آسمان پر دو عظیم الشان گواہ پیش کئے ہیں۔اس عجیب واقعہ کے بعد مجھے احمدیت کی طرف اور زیادہ توجہ ہوگئی۔الحمد للہ۔اس واقعہ کے بعد میں نے مخفی طور پر جلد جلد قادیان جانا شروع کیا اور اس کے بعد ۱۹۰۴ء میں مسئلہ نبوت کے متعلق بھی پوری تحقیقات کر کے اپنی تسلی کر لی اور پھر 19۵ء میں بیعت کے لیے معصم ارادہ کر کے قادیان جا پہنچا۔جب میں بیعت کے ارادہ سے قادیان جانے لگا تو اپنے بڑے بھائی محمد اسمعیل کو (جو عالم فاضل اور صوفی منشی آدمی تھے ) اپنے ساتھ لے گیا اور انہیں کہا کہ اگر آپ کو وہاں پر کوئی امر خلاف شریعت نظر آئے تو مجھے جتلا دیں کہ یہ غلطی ہے اور اگر آپ قادیان کی فضاء کو اسلامی شریعت کے عین مطابق پائیں تو بھی آگاہ کر دیں کہ یہ درست اور صحیح ہے اس میں میرا مقصد یہ تھا کہ وہ بھی اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیں اور میری اور اُن کی مخالفت نہ ہو۔راستہ میں پیدل چلتے ہوئے جب ہم دریائے راوی کو عبور کر کے فتح گڑھ چوڑیاں پہنچے تو ہم نے وہاں پر دو آدمیوں سے بٹالہ کا راستہ دریافت کیا۔وہ دونوں مسلمان تھے۔انہوں نے کہا کہ تم نے بٹالہ جاتا ہے؟ اس پر میرے بھائی صاحب نے کہہ دیا کہ ہم نے بٹالہ سے آگے قادیان جانا ہے یہ سنتے ہی ان دونوں نے بے نقط گالیاں ماں بہن کی نکالنی شروع کر دیں۔کہ ان دونوں کو دیکھو انہوں نے داڑھیاں رکھی ہوئی ہیں۔مولوی معلوم ہوتے ہیں۔مگر نہ معلوم انہیں کیا ہو گیا ہے کہ مرزا کے پاس گمراہ ہونے جارہے ہیں۔ہم وہاں سے چل پڑے اور وہ دونوں وہاں پر ہی کھڑے گالیاں دیتے رہے۔جب ہم آگے بڑھے تو میرے بھائی نے کہا کہ ابراہیم اب ہم کسی مسلمان سے راستہ نہیں پوچھیں گے بلکہ کسی ہندو یا سکھ سے دریافت کر لیا کریں گے۔اور کہا کہ معلوم ہوتا ہے تیرا مرزا سچا ہے۔خیر ہم رات بٹالہ میں رہے اور اس کے بعد ہم نے ہندؤوں سے راستہ دریافت کیا اور دوسرے دن قادیان پہنچ گئے۔میں نے اپنے بھائی کو استخارہ کے لیے کہا۔تین دن استخارہ کرنے کے بعد انہوں نے مجھے کہا مرزا صاحب واقعی بچے ہیں اس لیے تم بیعت کر لو۔میں نے کہا جب یہ بات ہے تو آپ بھی بیعت کر لیں۔اس پر وہ کہنے لگے کہ میرا اور تمہارا معاہدہ یہی تھا کہ تم مجھے بیعت کے لیے نہ کہو گے۔اب تو میں دستی بیعت نہیں کرتا تا کہ گاؤں والوں کو کہہ سکوں کہ میں نے بیعت نہیں کی ابراہیم نے کرلی ہے اور میں پھر کسی وقت خط کے ذریعہ بیعت کرلوں گا۔