حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 61
حیات احمد ۶۱ جلد پنجم حصہ دوم حضرت اقدس کی تقریر ختم ہونے پر راقم الحروف نے بر عایت اختصار اپنی گزشتہ دوماہ کی کارروائی کی رپوٹ پیش کی جو تجویز رسالہ کے متعلق بذریعہ خط و کتابت راقم الحروف اور دیگر برادرانِ طریقت میں ہو چکی تھی۔سرمایہ رسالہ کے متعلق راقم الحروف نے بیان کیا کہ اگر چہ اس سرمایہ کو تاجرانہ اصول پر جمع کرنا عام طور سے پسند کیا گیا ہے۔لیکن بعض ذی ہمت احباب یہ بھی پسند کرتے ہیں کہ یہ سرمایہ تاجرانہ طور سے نہ رہے بلکہ خیرات کے طور پر ہو۔اور اس کی آمد جو کچھ رہے وہ بطرز تجارت تقسیم نہ ہو بلکہ سرمایہ رسالہ میں جمع کیا جائے یہ تجویز واقعی نہایت احسن خیال کی گئی اور اس کی تائید میں شیخ رحمت اللہ صاحب بمبئی ہاؤس اور قاضی خواجہ علی صاحب ٹھیکیدار لودھیانہ نے پر زور تقریریں کیں۔چنانچہ پھر ان کی تقریروں پر کئی سو حصص کے قریب بہم پہنچانا حاضرین مجلس نے محض اللہ قبول کیا۔بہر حال اس تجویز کوغور ثانی کے لئے آئندہ اجلاس پر رکھا گیا جو دوسری شام کو منعقد ہونا تھا حسب رائے جلسہ مولوی محمد علی صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب ، ڈاکٹر رحمت علی صاحب ، مولوی عبدالکریم صاحب اور راقم الحروف انجمن کے قواعد اور ضوابط تجویز کرنے کے لئے مقرر کئے گئے۔چنانچہ یکم اپریل کو بعد از نماز مغرب دوسرا اجلاس حضرت اقدس کی مسجد میں ہوا اور قواعد انجمن جو مذکورہ بالا اصحاب نے بطور سب کمیٹی مرتب کئے تھے وہ منظور کئے گئے۔ان قواعد کی کاپی الگ طبع ہو کر ممبران انجمن کی خدمت میں پہنچے گی اور ایسا ہی دیگر احباب بھی مولوی محمد علی صاحب ساکن قادیان کو ایک آدھ آنہ کا ٹکٹ بھیج کر منگوا سکتے ہیں حضرت اقدس نے بعد از منظوری قواعد وضوابط و تقر ر عہدہ داران ایک لطیف تقریر کرنے کے بعد فرمایا کہ اُن کی رائے میں تاجرانہ اصول کا لحاظ رکھنا بھی موجودہ حالات کے ماتحت ضروریات سے ہے کیونکہ بعض وقت چندوں کی بہتات موجب ابتلاء ہو جاتی ہے۔چنانچہ اس امر کے متعلق مفصل بحث ہوئی اور یہ با تفاق رائے قرار دیا گیا کہ اس رسالہ کا سرمایہ اس طرح بہم پہنچایا جائے جس طرح میں نے پہلے تجویز کیا تھا یعنی گل سرمایہ رسالہ دس ہزار روپیہ تجویز ہوا اور اس کو ہزار حصص میں تقسیم کیا جائے ، فی حصہ دس روپیہ اور جو احباب اس کا سرمایہ ہم پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہوں وہ کم از کم ایک حصہ خرید میں تین سال تک اُن کا سرمایہ انجمن میں رہے