حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 60
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم دیکھ چکے تھے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ لے ہو چکا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے نہ چاہا کہ ان کو محروم رکھے، بلکہ یہی چاہا کہ ان کو بھی ثواب میں داخل کر دے۔اسی طرح پر اگر اللہ تعالیٰ چاہتا، تو ہم کو اس قدر خزانے دے دیتا کہ ہم کو پر واہ بھی نہ رہتی۔مگر خدا ثواب میں داخل کرتا ہے، جس کو وہ چاہتا ہے، یہ سب جو بیٹھے ہیں یہ قبریں سمجھو، کیونکہ آخر مرنا ہے۔پس ثواب حاصل کرنے کا وقت ہے میں ان باتوں کو جو خدا نے میرے دل پر ڈالی ہیں، سادہ اور صاف الفاظ میں ڈالنا چاہتا ہوں اس وقت ثواب کے لئے مستعد ہو جاؤ اور یہ بھی مت سمجھو کہ اگر اس راہ میں خرچ کریں گے تو کچھ کم ہو جاوے گا۔خدا تعالیٰ کی بارش کی طرح سب کمیاں پر ہو جائیں گے۔مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُ یا د رکھو خدا کی توفیق کے بغیر دین کی خدمت نہیں ہو سکتی جو شخص دین کی خدمت کے واسطے شرح صدر سے اٹھتا ہے، خدا اس کو ضائع نہیں کرتا۔غرض خلاصہ یہ ہے کہ ایک پہلوتو میں کر رہا ہوں ، دوسرے پہلو کو ہماری انگریز خواں جماعت نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے انہوں نے یہ تجویز کی ہے کہ تجارت کے طریق پر یہ کام جاری ہو جائے۔دین کی اشاعت ہو جائے گی اور ان کا کوئی حرج نہ ہوگا۔امید ہے کہ خدا اس کا اجر دے گا۔میں یہ صرف اپنی جماعت کے ارادوں کا ترجمہ کرتا ہوں۔میرا منشاء تو اسی حد تک ہے کہ کسی طرح عرب اور دوسرے ملکوں میں تبلیغ ہو جائے۔یہ انہوں نے اپنی دانست میں سہل طریق مقرر کیا ہے۔جس کو تجارتی طریق پر سمجھ لیا جائے۔تجارت کے اُمورظن غالب ہی پر چلتے ہیں۔بہر حال یہ اُن کا ارادہ ہے۔میرے نزدیک جہاں تک یہ امر مذہب سے تعلق رکھتا ہے تو میں اس کی حمایت کرتا ہوں۔اگر یہ تجویز عمل میں نہ بھی آوے 66 تب بھی یہ کام ہو جائے گا بہر حال آپ غور کر لیں۔اللہ تعالیٰ کو بہتر معلوم ہے“۔فقط الحکم مورخہ ۱۷ار اپریل ۱۹۰۱ء صفحه ۵ تا ۸ - ملفوظات جلد اول صفحه ۴ ۴۷ تا ۴۷۹ زیرا ۳ / مارچ ۱۹۰۱ء جدید ایڈیشن) المائدة : ۴ الزلزال: ۸