حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 54
حیات احمد وو ۵۴ تقریر حضرت اقدس جلد پنجم حصہ دوم سب صاحب اس بات کوسُن لیں کہ چونکہ ہماری یہ سب کارروائی خدا ہی کے لئے ہے۔وہ اس غفلت کے زمانہ میں اپنی حجت پوری کرنا چاہتا ہے جیسے ہمیشہ انبیاء علیہم السلام کے زمانہ میں ہوتا رہا ہے کہ جب وہ دیکھتا ہے کہ زمین پر تاریکی پھیل گئی ہے تو وہ تقاضا کرتا ہے کہ لوگوں کو سمجھادے اور قوانین کے موافق حجت پوری کرے، اس لئے زمانہ میں جب حالات بدل جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں رہتا مجھ کم ہو جاتی ہے۔اس وقت خدا تعالیٰ اپنے کسی بندہ کو مامور کر دیتا ہے تا کہ غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو سمجھائے اور یہی بڑا نشان اس کے مامور ہونے پر ہوتا ہے کہ وہ لغوطور پر نہیں آتا بلکہ تمام ضرورتیں اس کے وجود پر شہادت دیتی ہیں۔جیسے ہمارے پیغمبر خدا ﷺ کے زمانہ میں ہوا۔اعتقادی اور عملی حالت بالکل خراب ہو گئی تھی اور نہ صرف عرب کی بلکہ کل دنیا کی حالت بگڑ چکی تھی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ اس فساد عظیم کے وقت خدا تعالیٰ نے اپنے کامل اور پاک بندہ کو مامور کر کے بھیجا جس کے سبب سے تھوڑی ہی مدت میں ایک عجیب تبدیلی واقع ہو گئی مخلوق پرستی کی بجائے خدا تعالیٰ پوجا گیا، بد اعمالیوں کی بجائے اعمالِ صالحہ نظر آنے لگے۔ایسا ہی اس زمانہ میں بھی دنیا کی اعتقادی اور عملی حالت بگڑ گئی ہے اور اندرونی اور بیرونی حالت انتہا تک خطرناک ہوگئی ہے۔اندرونی حالت ایسی خراب ہو گئی ہے کہ قرآن کریم تو پڑھتے ہیں مگر یہ معلوم نہیں کہ کیا پڑھتے ہیں۔اعتقاد بھی کتاب اللہ کے برخلاف ہو گئے اور اعمال بھی۔مولوی بھی قرآن کو پڑھتے ہیں اور عوام بھی مگر تد بر نہ کرنے میں دونوں برابر ہیں۔اگر غور کرتے تو بات کیسی صاف تھی۔قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر خدا ہے ل الروم : ۴۲ d