حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 55
حیات احمد ۵۵ جلد پنجم حصہ دوم کو اللہ تعالیٰ نے مثیل موسیٰ پیدا کیا ہے۔بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک سلسلہ پیدا کرتا ہے پھر جب اس سلسلہ پر ایک در از عرصہ گزرنے پر ایک قسم کا پردہ سا چھا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اور سلسلہ اسی رنگ میں قائم کرتا ہے۔قرآن شریف سے دو سلسلوں کا پتہ لگتا ہے اوّل بنی اسرائیل کا سلسلہ جو موسٹی سے شروع ہوا اور حضرت عیسی علیہ السلام پر ختم ہو گیا چونکہ یہود کی بداعمالیاں آخری حد تک پہنچ گئی تھیں اور ان میں یہاں تک شقاوت اور سنگدلی پیدا ہوگئی تھی کہ وہ انبیاء کے قتل تک مستعد ہوئے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے غضب کی راہ سے اس سلسلہ کو جس میں ملوک اور انبیاء تھے حضرت عیسی پر ختم کر دیا۔میں ہمیشہ سے اس بات پر ایمان رکھتا ہوں کہ حضرت عیسی بن باپ پیدا ہوئے تھے اور ان کا بے باپ پیدا ہونا ایک نشان تھا اس بات پر کہ اب بنی اسرائیل کے خاندان میں نبوت کا خاتمہ ہوتا ہے۔کیونکہ ان کے ساتھ وعدہ تھا کہ بشرط تقومیٰ نبوت بنی اسرائیل کے گھرانے سے ہوگی لیکن جب تقویٰ نہ رہا تو یہ نشان دیا گیا تا کہ دانشمند سمجھ لیں کہ اب آئندہ اس سلسلہ کا انقطاع ہو گا۔غرض حضرت عیسی علیہ السلام پر بنی اسرائیل کی بوت کا خاتمہ ہو گیا۔پہلی کتابوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ بنی اسماعیل میں بھی ایک سلسلہ اسی سلسلہ کا ہم رنگ پیدا ہو گا اور اس کے امام و پیشوا اور سردار محمد رسول اللہ اللہ ہوں گے۔توریت میں بھی یہ خبر دی گئی تھی۔قرآن شریف نے بھی فرمایا۔كمَا أَرْ سَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا لے جیسے توریت میں مانند کا لفظ تھا قرآن شریف میں گما کا لفظ موجود ہے۔آنحضرت ﷺ بالاتفاق مثیل موسی ہیں سُورۃ ٹور میں بھی ذکر فرمایا گیا ہے کہ سلسلہ محمد یہ موسویہ سلسلہ کا مثیل ہے۔حضرت موسی اور حضرت عیسی علیہ السلام کے درمیانی انبیاء کا ذکر قرآن شریف نے نہیں کیا۔لَمْ نَقْصص نے کہہ دیا یہاں بھی سلسلہ محمدیہ المزمل : ١٦ المؤمن : ۷۹