حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 40 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 40

حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم مرسلوں کے وجود کے اور پھر ان کے اس کمال کے جس کا نام اظہار علی الغیب یا اخبار عن الغیب یا پیشگوئی ہے۔ابتدا سے جب سے انسان نے تمدن کا خوشنما جامہ پہنا اور سلسلہ بعثت انبیاء تحریک میں آیا ہے ایک قوم نے پر تحری اور پُر رُعب الفاظ میں اپنی نصرت اور اپنے دشمنوں کے خذلان اور مقہوریت کی قبل از وقت خبر دی اور وہ اسی طرح حرفا پوری ہوئی اس پر حکمت سلسلہ کی کبھی ایک کڑی بھی نہیں ٹوٹی اور کبھی اس سر بازی میں راستباز نہیں ہارے بلکہ اسی لازوال تصرف نے تو فصیح زبان سے گواہی دی کہ منجانب اللہ ہونے کا دعوی کرنے والے اپنے دعووں میں صادق ہیں۔نظام شمسی اگر اپنے تاثیر میں قادر یا مضطر ہے اور آدم زاد یکساں اس کی تاثیر کے نیچے ہیں تو کیوں ایسا ہوا اور اس کے خلاف نہ ہوا۔مختلف ملکوں اور مختلف ہواؤں اور بولیوں میں اور مختلف زبانوں میں ایک ہی رنگ اور ایک ہی دل و دماغ کی قوم نے بڑے زور سے پوری قوت سے جس کی کمر کبھی زندگی کے طویل دوروں میں ترہیب و ترغیب نے ڈھیلی نہ کی یہ دعویٰ کیا کہ ہم خدا کی طرف سے ہیں اور یہ آسمان و زمین حق کے ساتھ حق کے لئے پیدا کیا گیا ہے یعنی خدا نے اپنی الوہیت کے جلال کے اظہار کا کام لینے کے لئے پیدا کیا ہے اور اسے وہ اپنی مرضی کے موافق چلا رہا ہے اور ہم اس کے عزیز جلال اور شان الوہیت کے اظہار کے لئے مبعوث ہوئے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ وہ کامل الا رادہ اور کامل العلم اور کامل القدرت خدا جس کی حکومت منیر حکومت ہے ہمیں کامیاب اور منصور کرے اور ہمارے دشمنوں کو جو درحقیقت اس کے دشمن ہیں نابود کرے یہ بلند دعوی ہمیشہ سرسبز ہوا اور کبھی کسی زمانہ میں اس کی امدادی نہریں نہ سوکھیں کہ یہ مثمر درخت خشک ہو جاتا۔کبھی کسی زمانہ میں کوئی مامورا اپنی زندگی کے در از دور میں کسی ایسی خوفناک بیماری میں مبتلا نہیں ہوا ہے جسے عرف اور عادت نے گھنونی اور قابل اجتناب مرض مانا ہے۔کوئی ان میں سے مجزوم نہیں ہوا۔مبروص نہیں ہوا۔کوئی نابینا نہیں ہوا۔کسی پر فالج نہیں گرا۔کوئی مصروع نہیں ہوا۔کوئی درد گردہ اور استقاء اور طاعون اور ہیضہ اور قولنج سے ہلاک نہیں ہوا۔غرض قادر متصرف علیم حکیم خدا نے ان ذریعوں سے ثبوت دیا ہے کہ اس کی حکومت اضطراری نہیں اختیاری اور اقتداری ہے۔