حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 41
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم غرض اقتداری پیشگوئیاں ہی ایک ذریعہ ہے جس سے خدا کا ثبوت ملتا ہے اور انبیاء کی بعثت کی غرض پوری ہوتی ہے اور یہی زندہ معجزات اور علامات نبوت ہیں جو کسی زمانہ میں ان کی جڑ کوفنا کی صرصر جگہ سے اکھاڑ نہیں سکتی قرآن کریم نے جو زندہ خدا کی زندہ اور مبارک کتاب ہے اسی پر اپنے مرسل کے دعویٰ کی حقیقت کا مدار رکھا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس عظیم الشان پیشگوئی کی جگہ جسے ہم نے اوپر نقل کیا ہے۔بدر کی پیشگوئی کو رکھا ہے اور بڑے فخر اور ناز سے اس باشان دن کو یوم الفرقان کہا ہے وہ کیا تھا یہی کہ چند آدمی معمولی جنگ میں چند ہم جنسوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔مگر خدائے حمید کی کتاب مجید کا سارا ناز اسی پر ہے اور یہی واقعہ ہے جس کی نسبت توریت میں لکھا تھا کہ اس دن قیدار کی حشمت اور شوکت ٹوٹ جائے گی۔قبل از وقت پر شوکت پیشگوئیوں نے جو قرآن کریم میں جلالی الفاظ میں مذکور ہیں اس واقعہ کو دعویٰ نبوت کے صدق کی دلیل ٹھہرایا ہے اسی طرح اور اس رنگ میں اور اسی شان اور شوکت سے اور ایسے ہی پر تحر ی الفاظ میں اس دیوار کی نسبت خدا کے مرسل مسیح موعود نے اس زمانہ میں جبکہ نبوتوں اور ان کے نشانوں کو مردہ کہا گیا تھا پیشگوئی کی اور وہ پوری ہوئی اور اس نے آپ کے صدق دعویٰ پر ابدی مہر لگا دی۔چند روز ہوئے میر ناصر نواب صاحب کو ایک بی۔اے نوجوان نے جو مٹیر یلیزم اور دہریت کی وبا سے متاثر ہے کہا۔کہ اب جو یہ مقدمہ فتح ہو گیا تو اس کے پیچھے یقینا کوئی الہام گھڑ لیا جائے گا یہ خیال ایک بدقسمت نوجوان کا نہیں بلکہ یہ ایک منہ ہے جس کے اندر ہزاروں ایسوں کی زبان رکھی گئی ہے اب ہم چاہتے ہیں کہ یہاں وہ پیشگوئی قلم بند کریں جو دیوار کی نسبت ہوئی اس عظیم الشان پیشگوئی کے الفاظ یہ ہیں۔الرَّحَى تَدُورُ وَيَنْزِلُ الْقَضَاءُ إِنَّ فَضْلَ اللَّهِ لَاتٍ وَّ لَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَّرُدَّ مَا أَتَى۔قُلْ إِلَى وَ رَبِّي إِنَّهُ لَحَقِّ لَّا يَتَبَدَّلُ وَلَا يَخْفَى وَيَنْزِلُ مَا تَعْجَبُ مِنْهُ۔وَحْلٌ مِّنْ رَّبِّ السَّمَوَاتِ الْعُلى، إِنَّ رَبِّي لَا يَضِلُّ وَلَا يَنْسى ظَفَرٌ مُّبِينٌ۔وَإِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى أَنْتَ مَعِى وَاَنَا مَعَكَ۔قُلِ اللَّهُ ثُمَّ ذَرْهُ فِي غَيْهِ يَتَمَطَّى۔إِنَّهُ مَعَكَ وَإِنَّهُ يَعْلَمُ