حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 334
حیات احمد ۳۳۴ جلد پنجم حصہ دوم فرمائے اور جمعہ کے دن جمعہ پڑھا کر رات کی ٹرین پر سیالکوٹ واپس ہو گئے۔اب خدا کے فضل سے اس مباحثہ کے اثر سے مخالف فریق کی شورا شوری اور غیر طبعی جوش قطعاً جاتا رہا ہے اور ایک سکوت کا عالم ہے بالاخر ناظرین اور خصوصاً ایڈیٹر سراج الاخبار انصاف کرے کہ کیا مولوی کرم دین صاحب جن کی بات بات میں نفاق کا رنگ ظاہر ہوتارہا ہے اور جن کا خاتمہ اور جہلم سے روانگی نفاق پر ہی ہوئی ہے ایسے مولوی قابل اعتبار اور قابل وثوق ہیں اور کیا ان کے بھی کسی قول اور فعل کا اعتبار ہوسکتا ہے۔اب ذیل میں ہم تحصیلدار صاحب ومیاں دیوی سنگھ صاحب ڈپٹی انسپکٹر ومہر بہاول بخش صاحب ذیلدار کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جن کے حسن انتظام اور حفظ امن سے یہ مباحثہ نتیجہ خیز اور فائدہ بخش اہل انصاف ہوا۔اور دیگر اراکین مجلس کا بھی شکر یہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس دینی مجلس کو نیک نیتی کے ساتھ رونق افروز فرمایا۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ أَوَّلًا وَآخِرًا۔المشتهر جماعت احمدیہ جہلم نوٹ: میں نے اصل مسودہ حالات مباحثہ کو اس لئے درج کرنا ضروری سمجھا کہ بعض حق ناشناس حق پوشی کا الزام دینے لگتے ہیں۔عرفانی الاسدي الہ دین بلڈنگ سکندر آباد اپریل ۱۹۵۶ء