حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 335
حیات احمد ۳۳۵ جلد پنجم حصہ دوم اعتذار واستدعا میں (جیسا کہ تفہیم القرآن کی اشاعت کے وقت اعلان کیا تھا ) کچھ عرصہ سے مریض اور فریش ہوں۔میں خود تو اپنے آپ کو ایسا مریض نہیں سمجھتا مگر ڈاکٹروں کی رائے ہے ابتدائی شکایت تو بلڈ پریشر کی تھی پھر کچھ اور عوارض لاحق ہوئے اور ڈاکٹری مشورہ نے مجھے کامل آرام کا حکم دیا اور میں ایک متحرک لاش کی طرح ہو گیا۔اسی اثناء میں ڈاکٹروں کے مشورہ کے خلاف حیات احمد کا کچھ کام بے اطمینانی کی حالت میں بھی کرتا رہا اور جیسا میں چاہتا تھا پوری توجہ نہ کر سکا۔میں نے حضرت رب کریم سے یہ دعا کی تھی کہ اس کی تعمیل کی توفیق مل جاوے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے تو ۱۸۹۷ء تک تکمیل کرنے کو فرمایا تھا مگر میں ۱۹۰۸ء تک ہی مکمل کرنے کی آرزو رکھتا ہوں۔یہ نمبر ۱۹۰۲ء تک کا شائع ہورہا ہے جن حالات میں لکھا گیا ہے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے مجھے افسوس ہے کہ نہ تو صحت کا پورا التزام ہوسکا اور نہ نگرانی کا۔مکرم مولوی محمد عبد اللہ صاحب بی۔اے ایل ایل بی با وجود مصروفیت کے پوری توجہ کرتے رہے مگر پریس اور مُصحح کی نگرانی نہ ہو سکی۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس قدر شائع ہو سکا۔میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ آخری نمبر ہو گا اور اس کے ساتھ یہ عظیم الشان کام بظاہر ختم ہو جائے گا۔مگر میرا دل پُر امید ہے کہ مولیٰ کریم مجھے آخر تک پہنچانے کی توفیق عطا فرما دیں گے۔باایں میں یہ مسرت محسوس کرتا ہوں کہ گر نباشد به دوست ره بردن شرط عشق است در طلب مُردن احباب علی الخصوص حضرات صحابہ کرام سے دعا کا ملتجی ہوں کہ وہی اس کے قدر شناس خصوصی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سراپا تقصیر کو تکمیل ”حیات احمد کی توفیق روزی فرمائے۔آمین ثم آمین خاکسار عرفانی الاسدی اپریل ۱۹۵۶ء ترجمہ۔اگر چہ محبوب تک رسائی پانے کا کوئی ذریعہ نہ ہو پھر بھی عشق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی تلاش میں جان لڑا دی جائے۔