حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 333
حیات احمد ۳۳۳ جلد پنجم حصہ دوم جواب ملا۔ٹکا سامنہ لے کر واپس چلے آئے۔صَدَقَ اللهُ الْعَظِيمِ۔إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ إِهَانَتَكَ اے میسیج میں تیری اہانت کا ارادہ کرنے والے کی اہانت کروں گا۔اس روز تو مولوی کرم دین صاحب نے اپنے جوش نفس سے بخانہ ایڈیٹر سراج الاخبار وعظ بھی کیا اور اپنے اندر کے بخار بھی نکالے مگر دوسرے روز یعنی ۳۰ /اگست کی شام کو شیخ محی الدین اپیل نولیس کو ہمراہ لئے ہوئے سیٹھ احمد دین صاحب کے مکان پر جہاں مولوی ابو یوسف صاحب فروکش تھے آپ تشریف لائے اور یعنی تمام حرکات ناشائستہ کی وجہ اپنا جوش نفس بتلایا اور اپنے قصوروں کے معترف ہو کر مولوی ابو یوسف صاحب سے معافی کے لئے خواستگار ہوئے اور یہ بھی بیان کیا کہ پیر مہر علی شاہ کی کتاب سیف چشتیائی کے متعلق جو کچھ کارروائی ہوئی ہے وہ میرے توسط سے ہوئی ہے اور میں نے ہی اصل کتاب مولوی محمد حسن مرحوم ساکن بھیں کی جس کے نوٹوں سے پیر صاحب نے اپنی سیف چشتیائی لکھی ہے حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں بھیجی ہے۔تب مولوی ابو یوسف نے کہا کہ مولوی صاحب اللَّهُ حَسِيبُنَا وَحَسِيْبُكُمْ ہمارا تمہارا اللہ کے ہاں حساب ہے ہم نے تو اپنی عزت خدا کے دین کے لئے وقف کر رکھی ہے اور اپنی ذلت کا ہمارے دل پر کوئی بار نہیں۔ہماری عزت تو سب اسی میں ہے کہ خدا اور رسول اور ان کے پاک نائب حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی عزت ظاہر ہو۔پس ہم سے معاف کرانا یا نہ کرانا مساوی ہے آپ خدا سے معافی مانگیں اور یہ دورنگی چھوڑ دیں۔خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کریں تب مولوی کرم دین صاحب نے دوبارہ کہا کہ آپ تو معاف کریں اس پر مولوی ابو یوسف صاحب نے فرمایا کہ ہماری طرف سے تو معافی ہے اور یہ بھی کہا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب کے متعلق جو کچھ آپ کی خط و کتابت حضرت اقدس سے ہوئی ہے میں نے سب پڑھی ہے تب مولوی کرم دین صاحب یہ کہتے ہوئے مولوی نورالدین صاحب اور حکیم فضل دین صاحب اور حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں میرا السلام علیکم عرض کر دیں۔رخصت ہوئے اور مولوی ابو یوسف صاحب اپنی علالت طبع کی وجہ سے جلدی نماز خفتن ( عشاء ) ادا کر کے سو گئے اور علی الصبح اٹھ کر اپنے تنہیال کو چلے گئے اور تیسرے دن واپس ہو کر دو ایک روز جہلم میں رہے اور دو ایک وعظ بھی