حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 332
حیات احمد ۳۳۲ جلد پنجم حصہ دوم سب کے سب حکام انتظام ہم آہنگ ہو کر ایک ہی آواز سے بولنے لگے اور اپنے مولوی صاحبان کی تعظیم بجالاتے رہے۔آخر میر مجلس صاحب نے جلسہ برخاست کر دیا اور احمدی جماعت کو فرمایا کہ آپ لوگ ایک جانب ہو جائیں اور دوسرے فریق کو پہلے نکل جانے کا حکم دے دیا۔مگر مولوی صاحبان کی خاطر ہوتی دیکھ کر کچھ دوسرے لوگ رکنے لگے اور جا کر پھر رخ پھیرا تب حکام انتظام کے ہنٹروں نے وہ حاکمانہ کارروائی دکھلائی کہ جس کا نمونہ آگے تمام عمر میں نہ دیکھا گیا تھا۔پھر مولوی صاحبان بھی جاتے نظر نہ آئے اور میدان عید گاہ میں سے یوں گئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور عام لوگ بجائے دروازے میں سے نکلنے کے دیوار پر سے پھاند پھاند کر گئے۔جب میدان صاف ہو گیا تو مولوی ابو یوسف صاحب معہ اپنی جماعت کے باہر نکلے آگے دروازے میں جناب تحصیلدار صاحب اور میاں دیوی سنگھ صاحب ڈپٹی انسپکٹر معہ دیگر اہل کاران کھڑے ہوئے تھے تحصیلدار صاحب نے مولوی صاحب کو دیکھ کر جَزَا كُمُ الله کہا اور ڈپٹی صاحب نے بشاش بشاش چہرہ سے مولوی صاحب سے ہاتھ ملایا اور فرمایا۔کہ اب آپ امن اور چین سے بیٹھے رہیے تب مولوی ابو یوسف صاحب بگھی پر سوار ہو کر اپنے فروکش پر تشریف لے گئے اور شہر میں احمدی جماعت کو ہر طرف سے مبارکبادی کی صدائیں آنے لگیں اور تنوروں پر عورتوں میں بھی یہ تذکرہ تھا کہ مرزائی جیت گئے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِکَ یہ ہے انجام اس مباحثہ کا۔عشاء کے وقت کچھ رات گزری مولوی ابراہیم کی زبانی تحصیلدار صاحب کی وساطت سے ایک شخص نے وہ مضمون جو مولوی ابو یوسف صاحب نے سنایا تھا آ کر طلب کیا جواب میں کہا گیا کہ وہ مضمون چھپ کر شائع ہو گا۔تب مولوی صاحب کو ایک کا پی بھیج دی جاوے گی۔اور اس وقت مضمون مولوی ابو یوسف صاحب کے پاس موجود بھی نہیں۔کسی اور شخص کے پاس رکھا گیا ہے اس کے بعد پھر مضمون کا کوئی مطالبہ نہیں ہوا۔اور مولوی ابراہیم صاحب اسی شب کو رخصت ہو گئے۔دوسرے روز ۲۹ اگست ۱۹۰۲ء کو معتبر ذرائع سے سنا گیا کہ مولوی کرم دین صاحب میر مجلس صاحب کے دولت خانہ پر عذر خواہی اور اعتراف قصور کے لئے تشریف لے گئے اور ملاقات کی درخواست کی مگر اُدھر سے سوکھا