حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 327 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 327

حیات احمد ۳۲۷ جلد پنجم حصہ دوم خجالت کا آپ پر فوری ایک اثر تھا بعد میں پھر آپ نے اپنا سر جھاڑ کر صافہ باندھ لیا اور اس خیانت کے اظہار کی یہ بھی وجہ تھی کہ اس چھپائے ہوئے مضمون کا جواب مولوی ابو یوسف صاحب لکھ چکے تھے۔پس اس کا اظہار اگر اس وقت نہ کیا جاتا تو مولوی ابراہیم صاحب کو اس عذر کی گنجائش ہو جاتی کہ یہ میری باتوں کا جواب نہیں ہے اور نہ یہ باتیں میرے اس تحریری مضمون میں درج ہیں مگر اس کارروائی کے اثناء میں مولوی ابو یوسف صاحب کی طبیعت ابھی تک نڈھال تھی اور بخار میں کوئی بھی خفت پیدا نہ ہوئی تھی اس لئے پہلے مہر بہاول بخش صاحب ذیلدار کو مولوی صاحب کا معائنہ کرایا گیا تب انہوں نے تحصیلدار صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ مولوی ابو یوسف صاحب بعارضہ تپ شدید بیمار ہیں اور مضمون سنانے کے لئے آنہیں سکتے لیکن مضمون تیار ہے اس پر تحصیلدار صاحب نے میاں دیوی سنگھ صاحب ڈپٹی انسپکٹر اور چوہدری غلام قادر صاحب سب رجسٹرار اور راجہ خان بہادر خاں صاحب کو مولوی ابو یوسف صاحب کی بیماری کی تصدیق کے لئے بھیجا اول الذکر صاحب نے تو مولوی صاحب کی حالت دیکھ کر نہایت ہمدردی ظاہر کی اور کہا کہ واقعی اس وقت مولوی صاحب کی حالت شدت تپ کی وجہ سے دگرگوں ہے اور ضعف اور ناتوانی حد سے زائد ہے مگر آخرالذکر ہر دو صاحبان نے بہت تیز زبانی کی اور راجہ خان بہادر خاں صاحب نے مولوی صاحب سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کو اور بیماری تو کوئی نہیں آپ صرف جواب نہیں دے سکتے اس لئے بیمار بن بیٹھے اس وقت مولوی صاحب کے تمام کپڑے پسینہ میں تر تھے اور لحاف کے سہارے سے چار پائی پر بیٹھے ہوئے تھے راجہ خان بہادر خاں صاحب کی بات کا آپ نے صرف اس قدر جواب دیا کہ میں آپ کی زبان کو نہیں تھام سکتا۔اور میرا حال میرا خدا ہی جانتا ہے تب راجہ صاحب نے کہا کہ ایک معمولی تپ ہے اس میں آپ اس قدر نڈھال کیوں ہو گئے ہیں چل کر مضمون سناد بیجئے اس کے جواب میں شیخ معراج الدین صاحب نے راجہ صاحب موصوف کو یہ کہا کہ آپ تھوڑی دیر گھوڑے پر چڑھنے سے دو دو گھنٹہ تک اپنے نوکروں سے دبواتے اور چاپی کرایا کرتے ہیں یہ تو تپ شدید ہے اس کی کیفیت اسے ہی معلوم ہوتی ہے جسے چڑھتا ہے اس پر چودھری غلام نبی صاحب نے کہا کہ مولوی صاحب کو