حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 326 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 326

حیات احمد ۳۲۶ جلد پنجم حصہ دوم ٹمپریچر (۱۰۷) درجہ پر ہو گیا اور ڈاکٹر شیخ عبداللہ صاحب آپ کی تیمارداری کرنے لگے ڈاکٹر صاحب موصوف بڑی خوبی اور جانفشانی سے خدا تعالیٰ اُن کو جزائے خیر دے علاج کرتے رہے اور دم بدم بخار کا اندازہ لیتے رہے یہاں تک کہ کثرت پسینہ کے سبب بخار دھیما ہو کر ۰۲ ادرجہ پر پہنچا اس وقت ڈاکٹر صاحب موصوف نے ۶ اگرین کو نین اور فناسین کا مکسچر بنا کر مولوی صاحب کو پلایا 4 بجے بخار اس قدر ہلکا ہو گیا کہ مولوی صاحب نے چار پائی پر بیٹھ کر ظہر اور عصر کی نماز جمع کر کے گزاری یہ ۲۷ اگست کا دن تھا اور وہی دن تھا جس میں مولوی ابو یوسف صاحب نے جواب سنانا تھا۔اُدھر عیدگاہ میں چار بجے سے پہلے ہی ایک طوفان عظیم برپا ہوا تھا۔قاصد پر قاصد اور بلا وے پر بلاوا آتا تھا اور مولوی برہان الدین صاحب نے کہا کہ پہلے مولوی صاحبان سے کمی بیشی مضمون کی نسبت فیصلہ کر لینا چاہیے اور ہماری جماعت کے لوگ مولوی صاحبان کی اس حرکت بے جا کا عام طور پر اعلان کر دیں۔شاید اگر اس امر کے فیصلہ تک مولوی ابو یوسف صاحب کو کچھ صحت ہو جائے تو وہ خود جا کر مضمون سناویں گے ورنہ کسی اور شخص کو سنانے کے لئے کھڑا کر دیا جائے گا۔مگر پہلے اس خیانت کا تصفیہ ہونا چاہیے اور تحصیلدار صاحب کو بھی دوبارہ اس پر مطلع کیا گیا۔تحصیلدار صاحب نے مولوی ابراہیم صاحب سے ان کی اس تبدیل و تحریف کے بارے میں باز پرس کی تو آپ نے طَوْعًا وَ كَرْهًا مان لیا کہ ہاں ضرور کچھ مضمون جلدی کے سبب درج نہ ہوسکا۔تب تحصیلدار صاحب نے آپ کو بہت کچھ نادم کیا اور آپ کی اس حرکت ناشائستہ پر آپ کو ملزم ٹھہرایا مگر عوام تک ابھی یہ بات نہیں پہنچی تھی اس لئے جماعت احمدیہ کے چند تعلیم یافتہ لوگوں کو جلسہ میں بھیجا گیا اور مولوی ابراہیم صاحب سے عام لوگوں میں سے کچھ رد و بدل کے بعد تسلیم کرایا گیا کہ آپ نے کل کے سنائے ہوئے مضمون میں سے اس قدر مضامین خیانت کے طور چھپا لئے ہیں اور ان تمام نوٹوں پر جو آپ کی تقریر سے لئے گئے تھے اور آپ کے مرسلہ مضمون سے خارج تھے تحصیلدار صاحب کی فہمائش سے اور عام لوگوں کے سامنے تسلیمی صاد کرائے گئے اور اعلان کیا گیا کہ یہ آپ کی خیانت ہے تب تو مولوی ابراہیم صاحب کو مارے خجالت کے موت کا سامنا ہو گیا اس قدر آپ عرق شرم میں ڈوبے کہ پانی پانی ہو گئے مگر اس