حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 325 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 325

حیات احمد ۳۲۵ جلد پنجم حصہ دوم اس کے بعد جلسہ برخاست ہوا یہ ۲۶ اگست کا دن تھا۔اب صبح ۲۷ اگست ۱۹۰۲ء کو مولوی ابو یوسف صاحب نے 4 بجے صبح ہی سے اپنا جواب لکھنا شروع کر دیا اور اپنی یادداشت اور نوٹوں کی بناء پر بارہ بجے تک جواب لکھ کر تیار کر لیا جب مضمون پورا ہو چکا تو مولوی ابراہیم صاحب کا بھی پر چہ پہنچا اور ساتھ ہی مولوی ابو یوسف صاحب کے عربی پرچہ کا مطالبہ تھا۔مولوی ابو یوسف نے اپنا عربی پر چہ اس شخص کے ہاتھ بھیج دیا جو مولوی ابراہیم صاحب کا پر چہ لایا تھا مگر اُدھر سے بھی مولوی کرم دین صاحب کے عربی پر چہ کا بالمقابل مطالبہ کیا گیا۔لیکن انہوں نے اپنا عربی پر چہ دینے سے انکار کیا اور شدت تقاضا پر بھی نہ بھیجا اس سے مولوی کرم دین صاحب کی عربی دانی کا ایک منصف طبع انسان کو پتہ لگ سکتا ہے کہ مولوی کرم دین صاحب کو اپنی عربی کی صحت کی نسبت کچھ تو دھڑکا تھا کہ بار بار مطالبہ پر بھی پر چہ نہ دیا اور خلاف معاہدہ کیا کیوں کہ بالمقابل تحریروں کے دینے کا معاہدہ ہو چکا تھا۔مولوی ابو یوسف صاحب کو اپنا جواب مکمل کرنے کے بعد یہ خیال پیدا ہوا کہ مولوی ابراہیم صاحب کے پرچے کو اوّل سے آخر تک پڑھ لینا چاہیے جب مضمون مرسلہ مولوی ابراہیم صاحب حرف بحرف پڑھا گیا تو معلوم ہوا کہ اس میں اکثر حصہ ان مضامین کا نہیں جو آپ نے اپنی تقریر میں بیان کئے تھے اور نہ وہ نوٹ درج ہیں جو ان کی تقریر سے لئے گئے تھے۔اور وہ نوٹ اور مضامین جو مضمون سے عمداً خارج کئے گئے ایسے اہم اور ضروری تھے جس سے مولوی ابراہیم صاحب کی ساری قلعی کھل جاتی تھی اور آپ کے علم کی پوری پردہ دری ہوتی تھی اور اس مضمون کے پڑھنے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کچھ زائد مضامین اور سوال بھی اس پر چہ میں درج کئے گئے ہیں تب فوراً تحصیلدار صاحب کی طرف ایک خط لکھا گیا اور مولوی صاحب کی دیانت داری کا سارا حال منکشف کیا گیا لیکن تحصیلدارصاحب کی طرف سے اس خط کا کوئی تسلی بخش جواب نہ آیا۔اس کے بعد مولوی ابو یوسف صاحب کو تپ کے آثار شروع ہو گئے اور ظہر کی نماز سے پہلے تپ کی شدت ہو گئی اور بکثرت استفراغ ہونے شروع ہو گئے اور تپ کا اس قدر زور ہوا کہ