حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 324 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 324

حیات احمد ۳۲۴ جلد پنجم حصہ دوم چھ گھنٹے ملنے چاہیں۔تب میر مجلس صاحب نے فرمایا کہ شام تک جو قریبا ۴۰۳ گھنٹے ہوتے ہیں آپ تقریر کر سکتے ہیں تب آپ نے اپنا وہ سارا اندوختہ اور آموختہ جو آپ کی کئی سال کی جانفشانی کا نتیجہ تھا جستہ جستہ مقامات سے پڑھ کر سنا دیا اور بجائے چھ گھنٹے کے ایک ہی گھنٹہ میں ختم کر دیا۔آپ کے سارے مضمون کا لب لباب یہ تھا کہ سنت اللہ کا لفظ قرآن کریم میں صرف عذاب پر بولا گیا ہے اور انہیں معنے میں مقید ہے انسان جب ایک وزنی پتھر اٹھا کر اوپر پھینکتا ہے اور وہ اوپر چلا جاتا ہے تو کیا خدا تعالیٰ مسیح کو آسمان پر نہیں لے جاسکتا پرندے جو ہوا میں اڑتے ہیں تو کیا مسیح او پر نہیں چڑھ سکتا مسیح کی حیات جسمانی کا ثبوت وجدانی ہے بیان میں نہیں آسکتا۔تو ی کے معنے پورا بھر لینا ہے یعنی معہ جسم کے اٹھا لینا اس پر بعض تفاسیر کے متناقض اقوال کو بطور ثبوت اور شہادت کے پیش کیا اور بعض تراجم اردو کا بھی حوالہ دیا۔مسیح کو آیت اللہ قرار دے کر اور مُتكلّم في المهد مان کر اس کے خواص کو اور نبیوں سے الگ پانا اور اس وجہ سے اس کو انسانی ضوابط اور خواص سے مستثنیٰ قرار دیا۔آپ کی تقریر اول سے آخر تک مختلط الترتیب اور آپ کے الفاظ سلاست سے خالی اور بالکل بے جوڑ تھے اور آپ کے استدلالات ایسے کمزور اور غریبہ تھے جن میں آپ دیگر مفسرین سے متفرد پائے جاتے تھے۔اور آپ کا طرز بیان نہایت کرخت اور آواز تھرائی ہوئی تھی اور آپ کو بُحةُ الْصَوت کی بیماری ہے۔باایں ہمہ ایک گھبراہٹ دامن گیر تھی جس نے آپ کو حواس باختہ بنایا ہوا تھا۔غرض جوں توں کر کے آپ کا مضمون ختم ہوا تو میر مجلس نے فرمایا کہ ابھی آپ کا بہت سا وقت باقی ہے کچھ تو اور کہیے مگر آپ نے فرمایا کہ میں نے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکا تب میر مجلس صاحب نے مولوی ابو یوسف صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ کیا آپ اس تقریر کا آج اور اسی وقت ہی جواب دینا چاہتے ہیں؟ کیوں کہ ابھی آپ کے لئے کافی وقت ہے۔مولوی ابو یوسف صاحب نے کہا کہ میں تحریر کا تحریر سے ہی جواب دینا چاہتا ہوں۔میرے پاس اس وقت کوئی لکھی ہوئی کتاب موجود نہیں جس کو میں سنا دوں اور اس طرح پر میری تقریر بھی محفوظ نہیں رہ سکتی مجھے مولوی ابراہیم صاحب کے مضمون کی کاپی مل جاوے تو میں انشاء اللہ تعالیٰ کل جواب دوں گا۔