حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 320
حیات احمد ۳۲۰ جلد پنجم حصہ دوم میاں ملک صاحب بھی تشریف لائے اور ایک طرف آکر بیٹھ گئے۔مستری صاحب سوال پر سوال کرتے جاتے اور جواب باصواب پاتے جاتے تھے جب مستری صاحب نے عربیت کے کسی مسئلے میں غلطی کھائی تو مولوی صاحب نے فرمایا کہ آپ عربی زبان نہیں جانتے اور نہ اس کے قواعد سے آپ واقفیت رکھتے ہیں اس لئے بہتر ہو گا کہ آپ اپنے کسی مولوی صاحب کو بطور وکیل پیش کریں تب انہوں نے مولوی کرم دین صاحب کو اس مسئلہ کے تصفیہ کے لئے پیش کیا۔مولوی کرم دین صاحب نے قبل اس کے کہ گفتگو کریں یہ بات پیش کی کہ میں کسی خاص گروہ کا آدمی نہیں، میں حضرت میرزا صاحب سے حسن ظنی رکھتا ہوں اور دوسرے فریق سے بھی ابھی تک مجھے تعلق ہے اور میں نے کسی جانب ابھی تک فیصلہ نہیں کیا۔مولوی کرم الدین کی اس دورنگی گفتگو سے حاضرین کو ایک عجیب حیرت حاصل ہوئی اور جماعت احمدیہ کو تو ان کی نسبت اسی وقت سے سو عظنی پیدا ہوگئی کہ یہ شخص لَا إِلى هَؤُلَاءِ وَلَا الى هؤلاء کا مصداق ہے اس کی گفتگو سے کوئی نیک نتیجہ پیدا ہونے کی امید نہیں ہوسکتی۔الغرض مولوی کرم الدین صاحب موصوف نے مستری صاحب کی وکالت اختیار کر کے مولوی ابو یوسف صاحب سے گفتگو شروع کی اور اپنے استدلالی طریق میں ایسا الٹا مسلک اختیار کیا کہ بات بات میں ملزم ہونے لگے اور قرآن کریم سے دو ایک ایسے استدلال پیش کئے کہ جن سے حاضرین کو علم ہو گیا کہ مولوی کرم الدین صاحب قرآن کریم میں قطعاً دسترس نہیں رکھتے اور علم قرآن سے بالکل بے بہرہ ہیں۔آخر کار ایک ایسی غلط رائے پر اڑے کہ مستری صاحب نے سیٹھ احمد دین کے کان میں وہیں اس مجلس میں بیٹھے ہوئے کہہ دیا کہ مولوی کرم دین صاحب سخت غلطی پر ہیں اور نہایت غلط راہ چل رہے ہیں۔آخر مولوی ابو یوسف صاحب نے مولوی کرم دین صاحب کو ایسا ساکت اور لاجواب کیا کہ مولوی صاحب کا رنگ فق ہو گیا اور تیور بدل گئے اور آپ کی طبیعت میں ایک غیر طبعی جوش پیدا ہو گیا اور کچھ نفسیانیت کا رنگ آ گیا۔مگر مارے شرم کے کچھ بول نہ سکتے تھے اور خجالت سے عرق عرق ہو گئے۔اس وقت گیارہ بج چکے تھے مولوی ابو یوسف صاحب کو کھانا کھانے کے لئے پیغام آیا اور جلسہ