حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 321 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 321

حیات احمد ۳۲۱ جلد پنجم حصہ دوم برخاست ہوا لیکن فریق ثانی کی طرف سے مولوی کرم دین صاحب کو زک اٹھانے پر بے طرح جوش دیکھا جاتا تھا اور اسی اثنا میں یہ بھی مشہور ہو گیا تھا کہ مولوی ابراہیم صاحب بذریعہ تار بلا لئے گئے تھے مگر انہوں نے آنے سے انکار کر دیا ہے آخر مجبوراً اسی روز فریق ثانی نے صوفی صاحب کو ایک بجے کی ٹرین پر مولوی ابراہیم صاحب کو ہمراہ لانے کے لئے سیالکوٹ روانہ کیا اور ادھر مولوی کرم دین صاحب نے بخلاف اپنے اس اظہار حسن ظنی کے جو حضرت اقدس مرزا صاحب کی نسبت انہوں نے نگو سے پہلے عام جلسے میں کیا تھا بالا علان حضرت اقدس اور آپ کی جماعت کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا اور عوام کو خوب بھڑ کا یا اور ہنگامہ گرم کیا۔ادھر مولوی ابو یوسف صاحب کو کھانا کھانے کے بعد پیش از نماز ظہر نہایت شدت کے ساتھ تپ ہو گیا ( اور یہ ۲۵ را گست کا دن تھا) تمام شب تپ رہا۔صبح کوتپ ترا اور نماز صبح میں شامل ہوئے ( یعنی ۲۶ اگست کی صبح کوتپ اتر گیا ) اس وقت شیخ محی الدین صاحب اپیل نویس آئے اور انہوں نے بیان کیا کہ مولوی کرم دین کل مجھے کچہری میں ملے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے تو مرزا صاحب سے بہت کچھ حسن ظنی ہے اور میں وفات مسیح کا بھی قائل ہوں اور یہ بھی کہتے تھے کہ میں مولوی محمد مبارک علی صاحب سے بھی ملنا چاہتا ہوں۔مگر آج رات میں انہوں نے وعظ میں حضرت مرزا صاحب کے برخلاف بہت کچھ بیان کیا ہے۔اتنے میں کچھ اور احباب بھی آگئے اور وہ صوفی صاحب بھی آپہنچے جو مولوی ابراہیم صاحب کو لانے کے لئے گئے تھے اور چند آدمی ان کے ہمراہ اور بھی تھے اور یہ سب لوگ آکر مولوی ابو یوسف صاحب کے پاس بیٹھ گئے تب باستدعا حضرت مولوی برہان الدین صاحب میاں نظام الدین صاحب احمدی نے حضرت اقدس مرزا صاحب کی نظم در مشین سے ایک نعتیہ قصیدہ پڑھنا شروع کیا اور ان کے بعد خودمولوی ابو یوسف صاحب نے بھی در مشین میں سے ایک نظم پڑھی اس کے ختم ہونے پر صوفی صاحب نے فرمایا کہ مولوی ابراہیم صاحب تشریف لے آئے ہیں آپ لوگ جلسہ مباحثہ کے لئے مکان تجویز کریں اور وقت مقرر کریں اور اپنی جماعت کے حفظ امن کے ذمہ دار بھی ہوں۔اُدھر سے عرض کیا گیا کہ ہم لوگ تھوڑے ہیں اور آپ کثرت سے ہیں اور آپ کے شہر میں رسوخ بھی بہت ہیں اور حکام تک راہ و رسم بھی ہے۔اس لئے