حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 319 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 319

حیات احمد ۳۱۹ جلد پنجم حصہ دوم کو اپنے امام کی طرف سے بحث مباحثہ کی اجازت نہیں اور نہ موجودہ زمانہ کے بحث مباحثہ کا کوئی اچھا نتیجہ نکلتا ہے صرف مرغبازی یا بٹیر بازی اور تو تو اور میں میں ہوتی ہے۔اس لئے اس طریق مباحثہ کو میں پسند نہیں کرتا اس پر صوفی صاحب مذکور نے فرمایا کہ نہیں یہ ہمارا بھی منشاء نہیں کہ ایسا ہو اور ایک تماشا گاہ قائم کی جاوے بلکہ امن اور عافیت اور صلح کاری اور اچھے لوگوں کی ذمہ داری سے یہ معاملہ طے کیا جائے گا۔اس پر مولوی صاحب نے باتفاق رائے احباب اس امر کو قبول کیا اور صوفی صاحب مذکور کو اجازت دی کہ وہ مولوی ابراہیم صاحب کو بلا لیں۔صوفی صاحب نے یہ سن کر کہا کہ ایسا نہ ہو کہ آپ ان کے آنے سے پہلے ہی تشریف لے جاویں مولوی صاحب نے بحلف اس عہد کو مستحکم کیا کہ میں انشاء اللہ العزیز آپ کے مولوی صاحب کے آنے سے پہلے جہلم سے باہر ہر گز نہ جاؤں گا مگر شرط یہ ہے کہ آئندہ جمعہ تک انتظار کیا جائے گا۔اگر اس عرصہ میں وہ نہ آئے تو پھر میرا حق ہوگا کہ میں چلا جاؤں کیونکہ میں مسافرانہ طریق سے آیا ہوں زیادہ نہیں ٹھہر سکتا۔پس صوفی صاحب نے یہ سن کر کہا کہ ہم مولوی محمد ابراہیم صاحب کو ابھی تار دیتے ہیں وہ انشاء اللہ فوراً چلے آویں گے۔اس کے بعد جلسه وعظ برخاست ہوا اور لوگ اپنے اپنے گھر چلے گئے۔صبح کے وقت مولوی ابو یوسف محمد مبارک علی صاحب اسی مسجد میں تشریف لائے اور صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد اسی مسجد میں بیٹھے رہے اور اکثر احباب جمع ہو گئے مختلف مسائل پر بطور خود گفتگو ہوتی رہی۔جب قریباً ۸ بجے تو مستری عبدالکریم صاحب تشریف لائے اور اکثر تماشائی لوگ بھی جمع ہو گئے۔مستری صاحب موصوف نے مولوی صاحب سے حضرت مسیح کی حیات و وفات کے متعلق کچھ گفتگو شروع کی اور پر جوش الفاظ میں بولنے لگے اور ساتھ ہی یہ عذر بھی کیا کہ میں ایسا ہی بولا کرتا ہوں آپ مجھے معذور رکھیں گے۔مولوی صاحب نے بڑی حسن اخلاقی اور دل جوئی سے مستری صاحب کو بولنے کی اجازت دی اور کہا کہ آپ جس طرح پر چاہیں گفتگو کریں میں بُرا نہ مانوں گا۔اس پر مستری صاحب نے اپنی لیاقت کے مطابق آزادی سے کلام کرتے رہے اور مولوی صاحب بڑی متانت اور حلم سے جواب دیتے رہے۔اتنے میں مولوی کرم دین صاحب ساکن موضع بھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم اور آپ کے ہمراہ