حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 318 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 318

حیات احمد ۳۱۸ جلد پنجم حصہ دوم قادیان کے ہائی اسکول میں عربی کے مدرس ہیں اس لئے بوجہ ملا زمت آ نہ سکے اور حضرت اقدس نے ان کو بھیجنا ضروری نہ سمجھا۔موسم گرما کی تعطیلات کی تقریب پر مولوی صاحب موصوف اپنے تہیال میں جاتے ہوئے جو جہلم سے آٹھ دس کوس کے فاصلہ پر جانب شمال دریائے جہلم سے پار علاقہ ریاست جموں میں ہے جہلم میں آگئے اور مسافرانہ طریق پر مولوی برہان الدین صاحب کے مکان پر اترے۔جماعت احمدیہ کو اُن کے آنے کی خبر ملی اکثر احباب ملاقات کے لئے ان کے فرودگاہ پر پہنچے۔مولوی صاحب موصوف سے ملاقات کی اور آپ کی تشریف آوری کی خوشی ظاہر کی اور آپ سے استدعا کی کہ ایک دو روز جہلم میں ٹھہر کر اپنے وعظ و کلام سے احباب کو مستفید فرماویں۔مولوی صاحب موصوف نے دو ایک روز کا رہنا بطیب خاطر قبول کیا اور ۲۴ راگست کو بوقت عشاء قاری صاحب کی مسجد میں وعظ فرمایا۔جماعت احمدیہ کے تمام ممبر اور اکثر دوسرے فرقے کے مسلمان بھی آپ کے وعظ میں جمع ہوئے آپ کا بیان علم قرآن اور اس کے حصول کے ذرائع کے متعلق تھا۔قرآن کریم سے نہایت لطافت بیانی کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ علم قرآن سوائے مطہر اور مزکی نفوس کے دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں ہو سکتا اور علم قرآن کے حصول کے ذرائع میں سے بڑا ذریعہ تقوی وطہارت یعنی تزکیہ نفس اور تطہیر قلب اور اہل اللہ کی صحبت ہے اور یہ باتیں اس زمانہ میں سوائے امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت پاک کے حاصل نہیں ہو سکتیں۔علاوہ ازیں دیگر ضروری مسائل پر بھی اپنے وعظ میں بحث کی جس سے حاضرین نہایت محفوظ اور مطمئن ہوئے۔اختتام وعظ پر ایک صاحب صوفیانہ صورت بنائے ہوئے محمد الدین نامی اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے یہ درخواست کی کہ ہمارے نزدیک آپ کی جماعت کے برخلاف مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی قرآن کو بہت اچھا سمجھنے والے ہیں اور ہمارا اس پر کلی یقین ہے کہ وہ بہت بڑے عالم اور بہمہ صفت موصوف ہیں۔اس لئے یہ استدعا ہے کہ آپ حضرت مسیح کی وفات وحیات کے مسئلہ میں ان سے مباحثہ کریں اور اس مسئلہ کو طے کریں۔ہم لوگ سبک نہیں ہیں اور ہمارا مد عا صرف تحقیق حق ہے اگر آپ کے پاس حق ہے تو ہمیں قبول کرنے میں کوئی عذر نہ ہو گا۔مولوی صاحب نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہم لوگوں