حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 317 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 317

حیات احمد ۳۱۷ جلد پنجم حصہ دوم بخشی ان کے بیعت میں داخل ہونے کے بعد جہلم میں خصوصیت سے شور پڑ گیا اور وہاں ایک مباحثہ کی بنیاد پڑی۔اس سے پیشتر حضرت مولوی برہان الدین صاحب سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے اور مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی سلسلہ کے خلاف ایک اکھاڑہ مخالفت کا قائم کئے ہوئے تھے اور بڑے زور و شور سے تقریریں کرتے اور مباحثہ کے لئے للکارتے تھے لیکن جب حضرت مولوی صاحب کے ساتھ مناظرہ کی دعوت دی گئی تو انہوں نے بہ ایں عذرا نکار کر دیا کہ ”یہ میرے استاذ الاستاذ ہیں۔مگر وہاں انکار کر کے جہلم آکر ہنگامہ برپا کر دیا جماعت احمدیہ کی طرف سے ہر چیلنج کا جواب دیا گیا یہ مباحثہ ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔اور مولوی کرم دین ساکن بھیں کی مخالفت یا منافقت کا ظہور بھی اس مباحثہ سے ہوا۔جو بالآخر مقدمات کے ایک لمبے سلسلہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔سراج الاخبار جہلم میں بھی اسی وقت سے شدید حملوں کا آغاز ہوا بالآخر اللہ تعالیٰ کی قبل از وقت دی ہوئی بشارتوں کے موافق ان مقدمات کا انجام حضرت اقدس کی فتح اور دشمن کی شکست پر ہوا۔اس لئے میں اسے سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کا ایک جز ویقین کرتے ہوئے یہاں درج کرتا ہوں۔جہلم کے مباحثہ کے واقعات صحیحہ اس مباحثہ کی بنا اس وقت سے پڑنی شروع ہوئی جب سے کہ میاں ابراہیم نے سیالکوٹ میں مولوی برہان الدین صاحب سے اس بہانہ سے بحث کرنے سے انکار کیا کہ وہ میرے استاذ الاستاذ ہیں اور پھر ان کے برخلاف جہلم میں جا کر اکھاڑا جمایا اور بہت سے لوگوں کو حضرت اقدس مسیح موعود کی جماعت کے برخلاف جہلم میں برافروختہ کر دیا اور کئی دن تک وعظ کے جلسے کرتے رہے اور عوام کالانعام کو جوش دلاتے رہے۔ان دنوں جہلم کی جماعت کی طرف سے ایک خط قادیان میں حضرت اقدس کے پاس پہنچا کہ مولوی ابو یوسف محمد مبارک علی صاحب کو مناظرہ کے لئے بھیجا جائے مگر مولوی صاحب موصوف چونکہ