حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 274
حیات احمد ربگر ائے عالم جاودانی شد“ لے ۲۷۴ جلد پنجم حصہ دوم ( الحکم جلد ۶ نمبر ۷ ۱ مورخہ ۰ ارمئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۷۔تذکرہ صفحه ۳۴۳ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) حضرت اقدس ایک روز فرماتے تھے۔”ہم نے کشف میں دیکھا کہ قادیان ایک بڑا عظیم الشان شہر بن گیا اور انتہائی نظر سے بھی پرے تک بازار نکل گئے۔اونچی اونچی دو منزلی چو منزلی یا اس سے بھی زیادہ اونچے اونچے چبوتروں والی دوکانیں عمدہ عمارت کی بنی ہوئی ہیں اور موٹے موٹے سیٹھ ، بڑے بڑے پیٹ والے جن سے بازار کو رونق ہوتی ہے، بیٹھے ہیں اور ان کے آگے جواہرات اور لعل اور موتیوں اور ہیروں ، روپوں اور اشرفیوں کے ڈھیر لگ رہے ہیں اور قسم قسم کی دوکانیں خوبصورت اسباب سے جگمگارہی ہیں۔یکے ، بگھیاں ، ہم ٹم، فٹن ، پالکیاں، گھوڑے، شکر میں ، پیدل اس قدر بازار میں آتے جاتے ہیں کہ مونڈھے سے مونڈھا پھڑ کر چلتا ہے اور راستہ بمشکل ملتا ہے۔66 از مضمون پیر سراج الحق صاحب مندرجہ الحکم مورخه ۱/۳۰ پریل ۱۹۰۲ء صفحه ۱۳۱۲۔تذکره صفحه ۳۴۳ مطبوع ۲۰۰۴ء) دو دفعہ ہم نے رویا میں دیکھا کہ بہت سے ہندو ہمارے آگے سجدہ کرنے کی طرح جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اوتار ہیں اور کرشن ہیں اور ہمارے آگے نذریں دیتے ہیں۔“ اور ایک دفعہ الہام ہوا ہے کرشن رو در گوپال تیری مہما ہو۔تیری استنی گیتا میں موجود ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ اپریل ۱۹۰۲ صفحه ۸۔تذکره صفر ۳۴۴٬۳۴۳ مطبوعه ۲۰۰۴ء) حضرت اقدس نے اپنا ایک پر انا الہام نايَا يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ لے اُس نے عالم بقا کی راہ اختیار کر لی۔