حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 275 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 275

حیات احمد ۲۷۵ جلد پنجم حصہ دوم بِالْقُوَّةِ - وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ اور فرمایا کہ اس میں ہم کو حضرت بیٹی کی نسبت دی گئی ہے کیونکہ حضرت بیٹی کو یہود کی ان اقوام سے مقابلہ کرنا پڑا تھا جو کتاب اللہ توریت کو چھوڑ بیٹھے تھے اور حدیثوں کے بہت گرویدہ ہو رہے تھے اور ہر بات میں احادیث کو پیش کرتے تھے۔ایسا ہی اس زمانہ میں ہمارا مقابلہ اہل حدیث کے ساتھ ہوا کہ ہم قرآن پیش کرتے اور وہ حدیث پیش کرتے ہیں۔“ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۲، صفحه ۸ کالم نمبر ۳) ،، لا أَنْتَ مَعِي وَ إِنِّي مَعَكَ إِنِّي بَا يَعْتُكَ يَا يَعَنِي رَبِّي ، لا الحکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۲ صفحه ۸ - تذکره صفری ۳۴۴ مطبوعه ۲۰۰۴ء) ے فرمایا: آج رات کو یہ الہام ہوا۔66 إِنِّي مَعَ الرَّسُولِ أَقْومُ - وَ مَنْ يَلُوْمُهُ الْوُمُ - أَفْطِرُ وَ اَصُومُ ،، (احکم جلد ۶ نمبر ۱۶ مورخه ۳۰ را پریل ۱۹۰۲ ء صفحه ۶ - تذکر صفوی ۳۴۴ مطبوع ۲۰۰۴ء) لے (ترجمہ از مراتب ) تُو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں۔میں نے تیرے ساتھ ایک سودا کیا ہے خدا نے بھی میرے ساتھ ایک سودا کیا ہے۔کے ترجمہ۔یعنی میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔اس کی مدد کروں گا۔اور جو اس کو ملامت کرے گا اس کو ملامت کروں گا روزہ افطار کروں گا اور روزہ رکھوں گا یعنی کبھی طاعون بند ہو جائے گی اور کبھی زور کرے گی۔( حاشیہ) (0) میں اپنے وقتوں کو تقسیم کر دوں گا کہ کچھ حصہ برس کا افطار کروں گا یعنی طاعون سے لوگوں کو ہلاک کروں گا اور کچھ حصہ برس کا میں روزہ رکھوں گا یعنی امن رہے گا۔یعنی طاعون کم ہو جائے گی ، یا بالکل نہیں رہے گی۔دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۲۸،۲۲۷) (ب) ظاہر ہے کہ خدا روزہ رکھنے اور افطار سے پاک ہے اور یہ الفاظ اپنے اصلی معنوں کی رو سے اس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے۔پس یہ صرف ایک استعارہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی میں اپنا قہر نازل کروں گا اور کبھی کچھ مہلت دوں گا اس شخص کی مانند جو بھی کھاتا ہے اور کبھی روزہ رکھ لیتا ہے اور اپنے تئیں کھانے سے روکتا ہے اور اس قسم کے استعارات خدا کی کتابوں میں بہت ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کو خدا کہے گا کہ میں بیمار تھا۔میں بھوکا تھا۔میں ننگا تھا۔الخ منه (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۰۷)