حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 273
حیات احمد ۲۷۳ جلد پنجم حصہ دوم شوریدہ سے مراد دعا کرنے والا ہے اور حرم سے مراد جس پر خدا نے تباہی کو حرام کر دیا ہو اور دلم مے بلرز دخدا کی طرف (سے) ہے یعنی یہ دعائیں قومی اثر ہیں۔میں انہیں جلدی قبول کرتا ہوں۔یہ خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت کا نشان ہے۔دلم سے بلرزد، بظاہر ایک غیر محل سا محاورہ ہو سکتا ہے مگر یہ اسی کے مشابہ ہے جو بخاری میں ہے کہ مومن کی جان نکالنے میں مجھے تر ڈر ہوتا ہے۔توریت میں جو پچھتانا وغیرہ کے الفاظ آئے ہیں دراصل وہ اسی قسم کے محاورہ ہیں جو اس سلسلہ کی ناواقفی کی وجہ سے لوگوں نے نہیں سمجھے۔اس الہام میں خدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی محبت اور رحمت کا اظہار ہے اور حرم کے لفظ میں گویا حفاظت کی طرف اشارہ ہے۔“ الحکم جلد ۶ نمبر ۷ مورخہ ۱۰ارمئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۶ - تذکره صفحه ۳۴۲٬۳۴۱ مطبوع ۲۰۰۴ء) حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ رَأَيْتُ رَبِّي عَلَى صُورَةِ اَبِی۔یعنی میں نے اپنے رب کو اپنے باپ کی شکل پر دیکھا۔میں نے بھی اپنے والد صاحب کی شکل پر اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔ان کی شکل بڑی با رعب تھی۔انہوں نے ریاست کا زمانہ دیکھا ہوا تھا اس لئے بڑے بلند ہمت اور عالی حوصلہ تھے۔غرض میں نے دیکھا کہ وہ ایک عظیم الشان تخت پر بیٹھے ہیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ خدا تعالیٰ ہے۔اس میں ستر یہ ہوتا ہے کہ باپ چونکہ شفقت اور رحمت میں بہت بڑا ہوتا ہے اور قرب اور تعلق شدید رکھتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کا باپ کی شکل میں نظر آنا اُس کی عنایت تعلق اور شدت محبت کو ظاہر کرتا ہے۔اس لئے قرآن شریف میں بھی آیا ہے كَذِكْرِ كُمُ ابَاءَكُمْ اور میرے الہامات میں یہ بھی ہے انتَ مِنِّى بِمَنْزِلَةِ اَولَا دِی۔یہ قرآن شریف کی اسی آیت کے مفہوم اور مصداق پر ہے۔“ ( الحکم جلد ۶ مورخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۷۔تذکرہ صفر ۳۴۳٬۳۴۲ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) افسوس صد افسوس“ الحکم جلد ۶ نمبر ۷ ۱ مورخہ ۱۰ارمئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۷۔تذکرہ صفحہ ۳۴۳ مطبوعہ ۲۰۰۴ء)