حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 228
حیات احمد ۲۲۸ جلد پنجم حصہ دوم ساتواں جھوٹ۔پسر بڑھا تیلی۔یہ لڑ کا سگ گزیدہ تھا اور رجسٹر مذکور میں اس کی ہلاکت کا باعث یہی درج ہے مگر ہمیں افسوس ہے کہ ایڈیٹر پیسہ اخبار کے نزدیک وہ طاعون سے مرا گویا جس قدر واقعات اور وارداتیں پیسہ اخبار نے دی ہیں سب کی سب جھوٹ ہیں۔پیسہ اخبار اگر اپنی وقعت کو کم نہیں کرنا چاہتا تو آئندہ ایسے دوستوں پر اعتماد نہ کرے ورنہ اسے سخت نقصان اٹھانا پڑے گا۔آٹھواں جھوٹ۔مولوی حکیم نور الدین صاحب کی کسی رشتہ دار عورت (ساس) کے طاعون سے ہلاک ہونے کے متعلق جو جھوٹ پیسہ اخبار نے بولا ہے وہ قانونی زد سے باہر نہیں نواں جھوٹ۔ان سب سے بڑھ کر ایک اور مغالطہ آمیز جھوٹ پیسہ اخبار نے بولا ہے جس میں تعصب اور عداوت بھی ملی ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمنوں کی علالت طبع کی خبر اسی طاعون والے مضمون کے ضمن میں لکھی ہے جس سے یہ ظاہر کرنا مقصد ہے کہ نصیب اعداء آنحضرت اسی مرض سے بیمار ہیں۔لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينِ الحکم مورخه ارجون ۱۹۰۲ء صفحه ۷،۶ ) یہ حضرت اقدس کی فیاضی اور فراخدلی ہے کہ آپ قانونی چارہ جوئی نہ خود کرنا چاہتے ہیں اور نہ اپنے کسی خادم کو اجازت دیتے ہیں ورنہ پیسہ اخبار کو اپنی اس طرز تحریر کا پتہ لگ جاتا۔ایک شبہ کا عملی ازالہ الدار کے طاعون سے محفوظ رہنے کی پیشگوئی کا ذکر آچکا مگر اس پیشگوئی کے متعلق ایک واقعہ نے حقیقت کا انکشاف کر دیا اور یہ واقعہ مکرم مولوی محمد علی صاحب مغفور کی علالت کا ہے مولوی صاحب الدار ہی میں رہتے تھے مسجد کے اس غسل خانہ میں جہاں سرخ چھینٹوں کے نشان کا ظہور ہوا۔اُن کے دفتر کے لئے درست کرایا گیا تھا جو مسجد مبارک کے اندر ہی ہے اور اوپر ایک مختصر سے بالا خانہ میں