حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 215 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 215

حیات احمد ۲۱۵ جلد پنجم حصہ دوم کسی مخفی یا علانیہ دانستہ یا نادانستہ چھوٹی یا بڑی مخالفت کے باعث جس کے ذریعہ سے میں حضور کے اس عتاب اور سرزنش کا عنداللہ مصداق ہوں اپنے مخلصانہ دل کے ساتھ خدا کے حضور میں تو بہ کر کے اس کے بڑے اور پُر خوف غضبناک نتیجہ کے ظہور سے خدا تعالیٰ سے معافی اور امان چاہتا ہوں اور اس بقیہ حاشیہ - تَكَادُ السَّمَوتُ يَتَفَطَرْنَ مِنْهُ وَتَلْثَقُ الْأَرْضُ وَتَخِزُ الْجِبَالُ هَذَا أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا لے اور میاں چراغ دین ایسے قائلین سے ہماری صلح کے واسطے مامور ہوں۔نکتہ لطیفہ حضرت اقدس کا الہام شب کو بوقت چاند گرہن کے جو ہوا ہے کہ اذیبُ مَنْ يُرِيبُ اس میں چند سر ہیں اولاً آنکہ اللہ تعالیٰ اپنے اس الہام میں جو عین وقت خسوف کے ہوا اشارہ فرماتا ہے کہ میرا یہ قول یعنی الہام اور یہ فعل یعنی خسوف دونوں باہم مطابق ہیں یعنی جس طرح پر قمر کو حالت خسوف میں لا رہا ہوں اسی طرح پر جو شخص انکار یا دعوی تساوی اس جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الانبیاء کا کرے گا اگر چہ وہ مثل قمر کے روشن اور منور بھی ہوتب بھی میں اس کے نور کو معدوم کر دوں گا فَطَابَقَ الْقُوْلُ بِالْفِعْلِ وَالْفِعْلُ بِالْقَوْلِ - ثانیاً آنکہ چراغ دین نے اپنے اشتہار نمبر۲ صفحہ کے حاشیہ میں طول لا طائل کر کے اپنے ناصر اور مامور من اللہ ہونے پر آیت کریمہ خسوف و کسوف یعنی فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ہے بیہودہ استدلال کیا لہذا ہے لہذا حکمت الہی مقتضی ہوئی اس امر کے لئے کہ خاص خسوف قمر ہی کے وقت اس کے تمام بیہودہ استدلال کو حضرت اقدس پر یہ الہام نازل فرما کر باطل کر دیا جاوے کہ اذيبُ مَنْ يُرِيبُ ثالثاً چونکہ بعض احباب نے اس وجہ سے کہ یہ شخص جماعت احمدیہ سے ہی خیال کر لیا تھا کہ چراغ دین بھی مثل قمر کے مستفیض نور کا اس شمس ولایت جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الانبیاء سے ہو گیا ہے لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس الہام سے جو وقت خسوف کے ہوا جماعت احمدیہ کو بھی ثابت کر دیا کہ اب وہ خیالی ناصر مدعی قمریت اپنے ان دعاوی بے ہودہ کے سبب بوجہ ناراض کرنے اس جری اللہ فی حل الانبیاء کے تاریک اور ظلمانی ہوگیا اور اُذنبُ مَنْ يُرِيبُ کا مصداق ہے اگرتو یہ نہ کرے فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ للذا بحكم الْعَاقِلُ تَكْفِيهِ الْإِشَارَةُ کے ہر ایک شخص جماعت احمدیہ پر لازم ہے کہ اگر چہ اس پر رویا الہامات و کشوف کا دروازہ بسبب طفیل اس امام الزمان کے کھولا جاوے۔تب بھی کوئی دعوی یا حدیث النفس کسی قسم کا اس کے رو برو نہ کریں ورنہ الہام اذيبُ مَنْ يُرِيبُ “ اس کے واسطے بھی موجود ہے اور فعل اللہ تعالیٰ کا خسوف بھی موجود ہے اور یہی معنے ہیں اَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ کے جو آیت مذکورہ میں سابق گزر چکا۔وَلَنِعْمَ مَاقِیلَ آن کسی است اہل بشارت که اشارت داند نکتهاست بسے محرم اسرار کجاست كَتَبَه محمد احسن از قادیان ی مریم: ۹۲۹۱ القيمة : ٨ تا ١٠ (الحکم ۲۴ را پریل ۱۹۰۲، صفحه ۴۳)