حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 216 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 216

حیات احمد ۲۱۶ جلد پنجم حصہ دوم بات پر خدا میرا گواہ ہے اور حضور کو بھی میں گواہ کرتا ہوں خدا تعالیٰ میری اس تو بہ کو قبول کرے اور حضور کی بھی نظر منظور ہوں اور اللہ تعالیٰ کسی دانستہ یا نادانستہ خطا اور گستاخی کے انتقام سے جو حضور کی مخالفت پر مبنی ہو معاف فرما دے اور اپنی حفظ وامان میں محفوظ رکھے آمین ثم آمین۔پس واضح خدمت عالی کہ میں نے اپنے دعوئی کے متعلق جو کچھ اظہار کیا ہے اس کو خالصاً بلاتحریک نفسانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کر اُسی کی رضا مندی اور اس کے اس پاک سلسلہ احمدیہ کی تائید و تصدیق کے لئے کیا تھا جس پر اللہ تعالیٰ میرا گواہ ہے۔مگر چونکہ حضور امام الزمان اور خلیفہ اللہ اور حکم ہیں اس لئے جناب کا فیصلہ اور حکم ہر ایک فرد بشر کو ماننا اور قبول کرنا فرض ہے لہذا میں بھی حضور کے فیصلہ کو جو کہ میرے دعویٰ ماموریت کی نسبت صادر ہوا ہے سچے دل سے منظور و قبول کرتا ہوں۔اور حضور کی خوشنودی مزاج کے لئے جو خدا تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث ہے اس اپنے دعوی کو چھوڑ دیتا ہوں اور جو کچھ گستاخی یا سوئے ادبی یا حق تلفی اس جماعت کے مقدس لوگوں کی نسبت بوجہ دعوی ناصرت اس عاجز سے ظہور میں آچکی ہے اس کی بابت میں جملہ صاحبان سے عند اللہ معافی طلب کرتا ہوں۔اور میں نے اپنے اس دعوی کے متعلق ہمیشہ کے لئے یہ استعفی اور تو بہ نامہ لکھ کر حضور میں ارسال کیا ہے اس کو قبول فرما دیں اور اگر مرضی مبارک میں آوے تو شائع بھی کر دیں کیوں کہ میں ایک غریب آدمی ہوں اس لئے اس اشاعت کی توفیق نہیں رکھتا۔برائے خدا میری معافی کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور دعا مانگیں تا کہ خدا تعالیٰ میرے اس قصور کو جو حضور کی طرف سے میری طرف منسوب کیا گیا ہے معاف فرمادے اور آئندہ کے لئے حضور کسی طرح کی ناراضگی اپنے دل میں اس خاکپائے کی نسبت نہ رکھیں تا کہ خدا تعالیٰ اس عاجز کو آپ کی ناراضگی کے باعث کسی انتقام میں ماخوذ نہ کرے۔آمین۔اور میں امید کرتا ہوں کہ حضور براہ الطاف واکرام قبول تو بہ سے مطلع فرماویں گے۔عریضه نیاز خاکسار چراغ دین احمدی از جموں ۱/۲۷اپریل ۱۹۰۲ء الحکم جلد ۶ نمبر ۱۶ مورخه ۳۰ اپریل ۱۹۰۲ صفحه ۱۶)