حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 210
حیات احمد ۲۱۰ جلد پنجم حصہ دوم اس پر اولاً جو فیضان شروع ہوا وہ اس کا اپنا نہ تھا۔بلکہ حضرت مسیح موعود کی توجہ اور تجہی کا ایک شعلہ تھا۔جب اس نے روگردانی کی تو آپ ہلاکت کا سامان پیدا کر لیا اور اپریل ۱۹۰۲ء میں اس نے ایک عجیب دعوی کیا کہ میں حضرت مسیح ابن مریم علیہما السلام کا رسول ہوں اور میں عیسائیوں اور مسلمانوں میں صلح کراؤں گا اور انجیل اور قرآن کے اختلافات کو مٹاؤں گا اس قسم کے دعوئی سے ظاہر ہے کہ اس پر ایک جنونی رنگ آ گیا ہے اس لئے کہ قرآن کریم تو خود حکم ہے اور اس نے عیسائی مذہب کی غلطیوں کی اصلاح کر کے عیسویت کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے۔اور اپنے دعوے میں اطرا کرتا گیا اور بالآ خر نشانِ نعمانی کی لاف گزاف مارنے لگا اور حضرت اقدس کے مقابلہ میں کھڑا ہو گیا۔حضرت اقدس کو جب علم ہوا اور آپ نے توجہ الی اللہ کی تو آپ کو اس کی نسبت الہام الہی سے جو کچھ ظاہر ہوا اسے آپ نے کتاب دافع البلاء میں شائع کرایا جو اس کی ہلاکت کی پیشگوئی تھی اور وہ مشروط به تو به تھی اور چراغ دین کو بھی بذریعہ اعلان مطلع کر دیا گیا۔یہ رسالہ دافع البلاء۲۳۶ را پریل ۱۹۰۲ء کو شائع ہوا تھا مگر اس اثناء میں چراغ دین کو خاص طور پر بھی اطلاع دی گئی اور حضرت اقدس نے حضرت مولوی محمد احسن صاحب مغفور کو بھی فرمایا کہ چراغ دین کو بذریعہ خط نصیحت کی جاوے تا حاشیہ۔یہ خط الحکم ۲۴ اپریل ۱۹۰۲ء میں شائع ہوا ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ حَامِدًا وَ مُصَلِّيًا - محبّی چراغ الدین صاحب بعد السلام علیکم آنکہ آپ کا اشتہار نمبرسوم علاج طاعون حضرت امام الزمان علیہ السلام۔مِنَ اللهِ الرَّحْمَن جَرِى اللهِ فِي حُلَلِ الانْبِيَاءِ مہدی معہود و مسیح موعود کی خدمت مبارک میں سنایا گیا۔حضرت اقدس نے چند مضامین مندرجہ اور نیز آپ کی دعاوی مندرجہ بلا ثبوت کو بہت نا پسند فرمایا قطع نظر بے ثبوتی کے آپ نے آداب الرسول کا بھی بالکل پاس ولحاظ نہ کیا۔حالانکہ آپ پر فرض اور واجب تھا۔اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ آپ نے ہمارے ان احباب قدیم اور مخلصین مہاجرین کے تمام حقوق تلف کئے جو قدیم سے فدائی اور جان نثار ہیں اور جن کی نسبت براہین وغیرہ میں الہام موجود ہیں۔جیسا کہ مَن اللهُ عَلَيْكَ وَ عَلَى أَحْبَابِكَ أَيْضًا مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ أَيْضًا أَصْحَابُ الصُّفّةِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا أَصْحَابُ الصُّفَّةِ وغيره وغيره ان تمام مخلصین ناصرین قدیم کے اخلاص و نصرت کو آپ نے بالکل پامال کر دیا ہے حالانکہ قرآن مجید میں جابجا اللہ تعالیٰ