حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 209
حیات احمد ایک عجیب اتفاق ۲۰۹ جلد پنجم حصہ دوم حضرت مسیح موعود کی مخالفت میں ہر طبقہ کے لوگ نظر آتے ہیں علماء دین ( انہوں نے علمی طریق پر مقابلہ کیا اور کفر کے فتویٰ کا آخری ہتھیار استعمال کیا مگر وہ ہر رنگ میں اللہ تعالیٰ کی ہر رنگ میں دی ہوئی پیشگوئیوں کے موافق خائب و خاسر ہوئے اور بعض لوگوں نے الہام کا دعوی کر کے اپنے مقرب باللہ ہونے کا اعلان کیا اور مقابلہ میں آکر ان کی حقیقت کھل گئی۔ہر میدان میں نصرت اور فتح مندی کا تاج آپ ہی کے سر پر رکھا گیا۔جو امر عجیب اس موقعہ پر بیان کرنا میں چاہتا ہوں جو بجائے خود آپ کی صداقت کا لاجواب ثبوت ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح پر سید الاولین والآخرین حضرت خاتم النبین ہے کے وہ مخالف جو منجانب اللہ ہونے کا دعوی کر کے مقابلہ میں آکر ذلیل ہوئے وہ ایسے ہی لوگ تھے جنہوں نے اولاً حضرت نبی کریم ﷺ کی صداقت کا اقرار کیا اور آپ پر ایمان لانے کا دعویٰ کیا اور پھر مقابلہ میں خود رسالت کا دعویٰ کر دیا جیسے مسیلمہ کذاب وغیرہ۔اسی طرح پر حضرت مسیح موعود کا اس رنگ میں مقابلہ کرنے والے لوگوں میں سے بعض وہ تھے جنہوں نے آپ کو قبول کیا اور نہ صرف بیعت کی بلکہ اس زمانہ بیعت میں اپنی فرمانبرداری اور اخلاص کا ہر رنگ میں مظاہرہ کیا مگر بعد میں شامت اعمال نے انہیں آپ سے کاٹ دیا اور مخذول ہو کر ہمیشہ کے لئے ایک نشان صداقت بن گئے۔جیسے میر عباس علی ، ڈاکٹر عبدالحکیم ، منشی الہی بخش اور ان کے رفقاء یہ مماثلت بجائے خود بھی آیت صداقت ہے۔غرض چراغ دین جمونی حضرت اقدس کے مریدوں میں داخل تھا اور اسی نے حضرت کی اتباع میں کچھ فیض روحانی حاصل کیا تو بجائے شکر اور اخلاص میں ترقی کرنے کے اس پر نخوت کا بھوت سوار ہو گیا اور اس نے سمجھا کہ میں بھی کچھ ہوں حالانکہ حضرت مسیح موعود نے ایک نکتہ لطیف اپنے خدام کو سمجھایا تھا۔خدا خود قصه شیطاں بیاں کردست تا دانند کی کہ اس نخوت کند ابلیس ہر اہل عبادت را ترجمہ۔خدا نے خود شیطان کا قصہ اس لئے بیان کیا ہے تاکہ لوگ جائیں کہ تکبر عبادت گزار کو بھی شیطان بنادیتا ہے۔