حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 201 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 201

حیات احمد ۲۰۱ جلد پنجم حصہ دوم اور یہ بات بھی مجھ پر ثابت ہو چکی ہے کہ یہ صدی چھٹویں ہزار کا اختتام ہے اس لئے اس روحانی قیامت کی تیاری کے لئے جو کچھ انقلاب وقوع میں آنے والا ہے اسی صدی میں پورا کیا جاوے گا۔پس اس عظیم الشان اور کامل روحانی انقلاب کی تیاری کے واسطے خدا تعالیٰ نے دو طرح کا انتظام فرمایا ہے۔ایک جمالی دوسرا جلالی۔جمالی تو یہ ہے کہ اس نے اپنی سنت قدیمہ کے مطابق جیسا کہ وہ ہر ایک زمانہ میں دنیا کی ہدایت وصلاحیت کے لئے اپنے بندوں میں سے بعض کو مامور و مبعوث فرما تا رہا ہے اس زمانہ میں بھی اپنے ایک خاص بندہ کو جن کا نام نامی واسم گرامی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہے۔منصب امامت عطا کر کے مامور و مبعوث فرمایا ہے تا کہ آپ کے زیر سایہ دنیا ہدایت واطاعت میں رہ کر اُس پاک روحانی تبدیلی کا نور جس کا حصول روحانی قیامت کی تیاری کے لئے ضروری ہے اپنے اندر پیدا کرے اور خدا تعالیٰ کی اس پُر امن و با برکت بادشاہت میں جس کا ذکر کیا گیا ہے اور جس میں کسی نا پاک اور شریر کا گزر نہیں ہو سکتا داخل وشامل ہونے کے لائق ٹھہرے۔اور دوسرا نظام خدا تعالیٰ کا جلالی اور قبری حربہ جس سے مراد طاعون اور قحط ہے تا کہ جولوگ اس جمالی نظام سے اصلاح پذیر نہ ہوں اس جلالی حربہ سے ہلاک یا متنبہ کئے جائیں جیسا قدیم سے بقیہ حاشیہ۔منصب عطا ہوا۔ششم حضور کی بیعت کے لئے قوموں کو دعوت کرنے کی خدمت عطا فرمائی گئی اب ان تین دلائل کے بعد شک کرنے کا کونسا حل ہے کہ میں حضور کے ناصروں میں سے جن کا ذکر حدیث شریف اور رویا صالحہ میں ہے ایک کا مصداق نہ ہوں ہر گز نہیں ہاں یہ بات ضرور ہے کہ ابھی تک میں اپنے اندر مالی یا علمی ایسی استعداد نہیں دیکھتا جس سے میں اپنی تیں معقولی پیرایہ میں حضرت موصوف کا ناصر قرار دے سکوں کیونکہ یہ عاجزان دو باتوں میں ابھی تک بے سروسامان اور تہی دست ہے لیکن خدا تعالیٰ کے ان وعدوں اور تسلیوں پر جو مجھے دیئے گئے ہیں ایمان رکھتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا بلکہ میں کامل یقین سے کہتا ہوں کہ جب تک وہ خدمت جو اس عاجز کے حصہ میں مقرر ہے پوری نہ ہو اس دنیا سے اٹھایا نہ جائے گا کیونکہ خدا تعالیٰ کے وعدے ٹل نہیں جاتے اور اس کا ارادہ رک نہیں سکتا۔اس لئے میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جلالی نزول کا رسول ہوں اور وہ یہ ہے کہ اب تک حضرت مسیح موعود کا جمالی نزول تھا اور اب سے جلالی شروع ہو گا یعنی پہلے لوگوں کو جمالی پیرا یہ میں نرمی سے سمجھایا جاتا تھا مگر اب خدا تعالیٰ اپنے جلالی اور قہری حربہ کے ساتھ متنبہ کرے گا اور اسی امر کی منادی کے لئے میں مامور ہوں۔منہ ۱۲