حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 200
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم سے اٹھائے جائیں گے۔یہاں تک کہ شیر اور بیل بھیڑ اور بھیٹر یا اب ایک ہی گھاٹ سے پانی پئیں گے۔اس کا ثبوت قرآن شریف اور کتب مقدسہ میں موجود ہے۔اب میں اس بات کو بھی ظاہر کر دیتا ہوں کہ وہ متبرک زمانہ جس کی تعریف کی گئی ہے عمر دنیا میں ساتواں ہزار ہے جو سبت کی طرح خدا کی بادشاہت یعنی صلح و صلاحیت کے لئے مخصوص و مقرر ہے بقیہ حاشیہ۔اسی اثناء میں اتفاقاً ایک ایسی ہوا چلی جس سے وہ پردہ جس کے اندر حضور تشریف رکھتے تھے گر گیا اور آپ کا نورانی وجود آفتاب کی طرح چمکتا ہوا نظر آنے لگا اور اس عاجز نے دیکھا کہ آپ کا چہرہ نہایت ہی خوبصورت اور روشن ہے گویا کہ حضور انور کے چہرہ سے نور ٹپک رہا ہے اور ساتھ ہی اس کے یہ بھی دیکھا کہ حضور کی پوشاک سر سے پاؤں تک نہایت سفید اور براق ہے تب میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور آپ اس قدر مہربانی و محبت کے ساتھ پیش آئے کہ مجھے کامل یقین ہو گیا کہ اب میں حضور کے منظور نظر ہو کر عطائے خدمت سے مشرف کیا گیا ہوں یہاں تک کہ میں دیکھتا ہوں کہ میری پوشاک بھی حضور کی پوشاک کی طرح سفید اور براق ہوگئی۔اور ایسا ہی ایک بزرگ نے بعد توجہ اس عاجز کے حق میں یہ رویا دیکھی تھی کہ ایک تالاب ہے اور اس کے درمیان ایک پختہ عمارت ہے جس کے اندر سے ایک شعلہ روشنی کا نکل رہا ہے اور وہ بزرگ کہتا ہے کہ میں اس تحقیق کے لئے کہ یہ روشنی کس چیز سے ظاہر ہورہی ہے اس مکان کے دروازہ پر گیا۔تو اس کے اندر اس خاکسار کو پایا۔حاصل کلام ایسے ہی اور بھی بہت سی رویا اور کشوف ہیں جن کا لکھنا موجب طوالت ہے مگر یہ بات خوب یا در کھنے کے قابل ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے رؤیا کشوف وغیرہ کی وساطت سے اس عاجز پر بخوبی ظاہر و ثابت کر دیا ہے کہ میں حضرت مسیح موعود کے روحانی ناصروں میں سے ایک ہوں جیسا کہ حضور کو ابتدائے دعویٰ مسیحیت کے وقت ایک رویا صالحہ میں وہ ناصر دکھائے گئے تھے۔جن کی تصدیق حدیث نبوی صلعم سے ظاہر ہوتی ہے کہ مسیح موعود دو فرشتوں یا مردوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر نازل ہوں گے سو میری رؤیا و کشوف جن کا ذکر اختصار کے طور پر پہلے کیا گیا ہے اس بات کو بخوبی ثابت کرتے ہیں کہ ان دو ناصروں میں سے جن کا ذکر حدیث نبوی اور حضرت اقدس کی رؤیا مبارکہ میں ہے ایک کا مصداق یہ عاجز ہے اس وجہ سے کہ اول تو مجھے ایک الہامی کتاب میں لکھا ہوا دکھایا گیا کہ وہ مینار جس پر مسیح نازل ہو گا اس عاجز کے ہاتھ سے بنایا جائے گا۔دوم کشفی حالت میں خدا نے مجھے مسیح کے جلالی نزول کی منادی کرنے اور قوموں کو اس کی بادشاہت میں شامل ہونے کی خوشخبری دینے کے لئے مامور فرمایا۔سوم خدا تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ سے مجھے قوموں کو طاعون سے نجات کی طرف بلانے کے لئے حکم دیا۔چہارم آسمان سے نورانی اجرام نشان کے طور پر خدا تعالیٰ نے حضرت امام الزمان کی تائید میں اس عاجز کے ہاتھ پر نازل فرمائے۔پنجم حضور کی طرف سے آپ کی خدمت اور مختار کاری کا