حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 202 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 202

حیات احمد ۲۰۲ جلد پنجم حصہ دوم سنت اللہ چلی آتی ہے کہ ہر ایک روحانی انقلاب کے لئے پہلے مامور آتے رہے ہیں اور جب قوم ان کی تکفیر و تکذیب میں حد سے بڑھ جاتی تھی تو ان پر عذاب آجاتا رہا۔جس کی نظیر میں قرآن شریف کتب مقدسہ میں بکثرت موجود ہیں۔چنانچہ اسی طرح اب بھی وقوع میں آیا کہ جب حضرت اقدس نے تبلیغ اور حجت اللہ کو دنیا پر پورا کیا اور اپنے دعوئی ماموریت کو ہرایک پہلو سے جیسا کہ حق تھا ثابت کر دکھایا۔لیکن دنیا ان کی تکفیر و تکذیب سے باز نہ آئی تو خدا تعالیٰ نے اپنی سنت قدیم کے مطابق اس زمانہ کے لوگوں کے لئے آسمان سے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام کے مخالفوں کی طرح آپ کے مکذبین کے لئے بھی ایک بلا نازل فرمائی سو وہ یہی طاعون ہے جو دنیا کو کھا جانے والی آگ کی طرح بھسم کرتی جاتی ہے۔دیکھو حدیث نبوی میں صاف لکھا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اس کثرت سے طاعون پڑے گی کہ زمین مردوں سے بھر جائے گی اور انجیل مقدس کتاب مکاشفات باب ۱۶ میں لکھا ہے کہ نزول مسیح کے زمانہ میں خلقت برے اور زبون پھوڑے کی آفت سے جس سے مراد طاعون ہے ہلاک ہوگی علاوہ ازیں قرآن کریم بڑی شد و مد کے ساتھ آخری زمانے میں قوموں کے ہلاک ہونے کی خبر دیتا ہے جیسا کہ فرمایا۔وانُ مِنْ قَرْيَةِ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيِّمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَبِ مَسْطُورًا اور ایسا ہی سورہ دخان میں فرمایا۔فَارُ تَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمُ الخے اور فرمایا۔يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ کے یعنی انتظار کرو اس دن کی کہ لا وے آسمان، دھواں ڈھانک لے گا لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد دینے والا۔جس دن پکڑیں گے ہم پکڑنا سخت تحقیق ہم بدلہ لینے والے ہیں۔اور اسی طرح سورہ قیامت میں فرمایا۔فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ كَلَّا لَا وَزَرَ إِلى رَبِّكَ يَوْمَينِ الْمُسْتَقَرُّ کے یعنی چاند اور بنی اسرائیل : ۲۹ الدخان: ۱۲۱۱ الدخان: ۱۷ القيمة : ٨ تا ١٣