حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 182
حیات احمد ۱۸۲ جلد پنجم حصہ دوم کا اس پر اتفاق ہے کہ بروز میں دوئی نہیں ہوتی کیوں کہ بروز کا مقام اس مضمون کا مصداق ہوتا ہے کہ من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تاکس نہ گوید بعد میں من دیگرم تو دیگری لیکن اگر حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئے تو بغیر خاتم النبیین کی مہر توڑنے کے کیوں کر دنیا میں آ سکتے ہیں؟ غرض خاتم النبیین کا لفظ ایک الہی مہر ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے۔اب ممکن نہیں کہ کبھی یہ مہر ٹوٹ جائے۔ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہد تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ اور انبیاء کو اپنے بروز پر غیرت نہیں ہوتی کیوں کہ وہ انہی کی صورت اور انہی کا نقش ہے لیکن دوسرے پر ضرور غیرت ہوتی ہے۔دیکھو حضرت موسیٰ نے معراج کی رات جب دیکھا کہ آنحضرت علی ان کے مقام سے آگے نکل گئے تو کیونکر رو رو کر اپنی غیرت ظاہر کی۔تو پھر جس حالت میں خدا تو فرمائے کہ تیرے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا اور پھر اپنے فرمودہ کے برخلاف عیسی کو بھیج دے تو پھر کس قدر یہ فعل آنحضرت عے کی دل آزاری کا موجب ہوگا! غرض بروزی رنگ کی نبوت سے ختم نبوت میں فرق نہیں آتا اور نہ مہر ٹوٹتی ہے لیکن کسی دوسرے نبی کے آنے سے اسلام کی بیخ کنی ہو جاتی ہے اور آنحضرت ﷺ کی اس میں سخت اہانت ہے کہ عظیم الشان کام دجال کشی کا عیسی سے ہوا نہ آنحضرت ﷺ سے اور آیت کریمہ الجمعة : ۴