حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 181
حیات احمد ۱۸۱ جلد پنجم حصہ دوم سراسر خلاف ہے کہ آپ اس بیان کو تو چھوڑ دیں جو اظہار مفہوم بروز کے لئے ضروری ہے اور یہ امر ظاہر کرنا شروع کر دیں کہ وہ میرا نواسہ ہوگا بھلا نواسہ ہونے سے بروز کو کیا تعلق۔اور اگر بروز کے لئے یہ تعلق ضروری تھا تو فقط نواسہ ہونے کی ایک ناقص نسبت کیوں اختیار کی گئی بیٹا ہونا چاہیے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی کلام پاک میں آنحضرت علی کے کسی کے باپ ہونے کی نفی کی ہے لیکن بروز کی خبر دی ہے۔اگر بروز صحیح نہ ہوتا تو پھر آیت وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ میں اُس موعود کے رفیق آنحضرت ﷺ کے صحابہ کیوں ٹھہرتے ؟ اور نفی بروز سے اس آیت کی تکذیب لازم آتی ہے۔جسمانی خیال کے لوگوں نے کبھی اس موعود کو حسن کی اولاد بتایا اور کبھی حسین کی اور کبھی عباس کی لیکن آنحضرت اللہ کا صرف یہ مقصود تھا کہ وہ فرزندوں کی طرح اس کا وارث ہوگا۔اس کے نام کا وارث ، اس کے خلق کا وارث ، اس کے علم کا وارث ، اس کی روحانیت کا وارث اور ہر ایک پہلو سے اپنے اندر اس کی تصویر دکھلائے گا اور وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ سب کچھ اس سے لے گا اور اس میں فنا ہو کر اس کے چہرے کو دکھائے گا۔پس جیسا کہ خلی طور پر اس کا نام لے گا ، اس کا خلق لے گا، اس کا علم لے گا ایسا ہی اس کا نبی لقب بھی لے گا کیونکہ بروزی تصویر پوری نہیں ہو سکتی جب تک کہ یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنے اصل کے کمال اپنے اندر نہ رکھتی ہو۔پس چونکہ نبوت بھی نبی میں ایک کمال ہے اس لئے ضروری ہے کہ تصویر بروزی میں وہ کمال بھی نمودار ہو۔تمام نبی اس بات کو مانتے چلے آئے ہیں کہ وجود بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتی ہے یہاں تک کہ نام بھی ایک ہو جاتا ہے۔پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ جس طرح بروزی طور پر محمد اور احمد نام رکھے جانے سے دو حمد اور دو احمد نہیں ہو گئے اسی طرح بروزی طور پر نبی یا رسول کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خاتم النبیین کی مہر ٹوٹ گئی کیوں کہ وجود بروزی کوئی الگ وجود نہیں۔اس طرح پر تو محمد کے نام کی نبوت محمد ﷺ تک ہی محدود رہی۔تمام انبیاء علیہم السلام