حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 183
حیات احمد ۱۸۳ جلد پنجم حصہ دوم وَلكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِینَ کے نعوذ باللہ اس سے جھوٹی ٹھہرتی ہے اور اس آیت میں ایک پیشگوئی مخفی ہے اور وہ یہ کہ اب نبوت پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے اور بجز بروزی وجود کے جو خود آنحضرت ﷺ کا وجود ہے کسی میں یہ طاقت نہیں جو کھلے کھلے طور پر نبیوں کی طرح خدا سے کوئی علم غیب پاوے اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست و پا ہے کیوں کہ نبوت پر مہر ہے۔ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا سو وہ ظاہر ہو گیا۔اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑ کی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لئے باقی نہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ بروزی طور کی نبوت اور رسالت سے ختمیت کی مہر نہیں ٹوٹتی اور حضرت عیسی کے نزول کا خیال جوستلزم تکذیب آیت وَلكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ ہے وہ ختمیت کی مہر کو توڑتا ہے اور اس فضول اور خلاف عقیدہ کا تو قرآن شریف میں نشان نہیں اور کیونکر ہوسکتا ہے کہ وہ آیت ممدوحہ بالا کے صریح برخلاف ہے لیکن ایک بروزی نبی اور رسول کا آنا قرآن شریف سے ثابت ہو رہا ہے جیسا کہ آیت وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ سے ظاہر ہے۔اس آیت میں ایک لطافت بیان یہ ہے کہ اس گروہ کا ذکر تو اس میں کیا گیا جو صحابہ میں سے ٹھہرائے گئے لیکن اس جگہ اس مورد بروز کا بتصریح ذکر نہیں کیا یعنی مسیح موعود کا جس کے ذریعہ سے وہ لوگ صحابہ ٹھہرے اور صحابہ کی طرح زیر تربیت آنحضرت ﷺ سمجھے گئے۔اس ترک ذکر سے یہ اشارہ مطلوب ہے کہ مورد بروز حکم نفی وجود کا رکھتا ہے۔اس لئے اس کی بروزی نبوت اور رسالت سے مہر ختمیت نہیں ٹوٹتی۔پس آیت میں اس کو ایک وجود منفی کی طرح رہنے دیا اور اس کے عوض میں آنحضرت ﷺ کو پیش کر دیا ہے۔اور اسی طرح آیت إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ل الاحزاب : ام الكوثر : ٢