حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 148 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 148

حیات احمد ۱۴۸ جلد پنجم حصہ دوم نے آپ لوگوں کا منہ بند کر رکھا ہے کیا ایسی کتابیں بازاروں میں ملتی نہیں ہیں جن سے سرقہ کر سکو؟ اُن لعنتوں کو کیوں آپ لوگوں نے ہضم کیا جو در حالت سکوت ہماری طرف سے آپ کی نذر ہوئیں اور کیوں ایک سورۃ کی بھی تفسیر عربی بلیغ فصیح میں تالیف کر کے شائع نہ کر سکے تا دنیا دیکھتی کہ کس قدر آپ عربی دان ہیں !! گولڑوی کا نیا محاذ اور قلمی جنگ اشتداد نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۲۳۴ تا ۴۰ ) گولڑوی صاحب نے قلمی جنگ کا آغاز تو اس امید پر کیا تھا کہ غلط اور جھوٹے پروپیگنڈے سے غالباً وہ داغ دھل جائے گا جو تفسیر نویسی کے مقابلہ سے فرار نے لگا دیا ہے۔جس قدر اس کو صاف کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اسی قدر وہ روشن اور وسیع ہوتا جاتا ہے اعجاز المسیح کی اعجازی قوت نے ہندوستان سے باہر نکل کر بلا دعربیہ میں بھی اپنا سکہ بٹھا دیا جیسا کہ اوپر قارئین کرام پڑھ چکے ہیں کہ مصر کے مشہور اخبار نولیس رشید رضا کا قلم توڑ دیا اور بلا عرب وشام کے کسی اہل قلم کو مقابلہ میں آنے کی ہمت نہ ہوئی۔پیر صاحب خود محسوس کرتے تھے کہ وہ اس مقابلہ میں نہ صرف ناکام بلکہ اپنوں اور غیروں میں بدنام ہو چکے ہیں اس لئے انہوں نے ایک نیا محاذ قائم کرنا چاہا اور اعجاز المسیح کا جواب تو کیا لکھنا تھا اس پر اعتراض کرنے کے لئے قدم اٹھایا وہ غالباً ایسا نہ کرتے مگر شامت اعمال سے فیض الحسن فیضی ساکن بھیں ضلع جہلم کے نوٹ اعجاز المسیح پرٹل گئے اور پیر صاحب نے سمجھا کہ اب میری فتح کا جھنڈا بلند ہوگا۔مگر وہ اس سے غافل تھا کہ اعلان رسوائی ہوگا اور اس نے سیف چشتیائی کے نام سے ایک نئی کتاب کی اشاعت کا اعلان کیا اور عجیب بات یہ ہے کہ اپنی ہی تلوار سے اس نے خود کشی کر لی اور اپنی دستار فضیلت کو اپنے ہاتھ سے تار تار کر ڈالا جس کی تفصیل آگے آتی ہے اور یہ محاذ قلمی جنگ سے گزر کر قانونی جنگ کی صورت اختیار کر گیا اور بالآخر عدالت نے پیر صاحب اور ان کے رفقاء کی قسمت پر آخری مہر لگا دی اور قیامت تک ان کے علم، تقویٰ و طہارت اور اخلاقی پہلوؤں پر نہ مٹنے والا فیصلہ لکھ دیا۔