حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 147 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 147

حیات احمد ۱۴۷ جلد پنجم حصہ دوم (اا) نجم الهُدَى (۱۲) منن الرَّحمن (۱۳) حمامة البشرى (۱۴) تحفه بغداد (۱۵) البلاغ (۱۶) ترغیب المؤمنين ( ۱ ) لجة النور اس قدر تصانیف عربیہ جو مضامین دقیقہ علمیہ حکمیہ پر مشتمل ہیں بغیر ایک کامل علمی وسعت کے کیونکر انسان ان کو انجام دے سکتا ہے۔کیا یہ تمام علمی کتابیں حریری یا ہمدانی کے سرقہ سے طیار ہو گئیں اور ہزار ہا معارف اور حقائق دینی و قرآنی جو ان کتابوں میں لکھے گئے ہیں وہ حریری اور ہمدانی میں کہاں ہیں؟ اس قدر بے شرمی سے منہ کھولنا کیا انسانیت ہے یہ لوگ اگر کچھ شرم رکھتے ہوں تو اس شرمندگی سے جیتے ہی مر جائیں کہ جس شخص کو جاہل اور علم عربی سے قطعاً بے خبر کہتے تھے اس نے تو اس قدر کتا بیں فصیح بلیغ عربی میں تالیف کر دیں مگر خود ان کی استعداد اور لیاقت کا یہ حال ہے کہ قریباً دس برس ہونے لگے برابر ان سے مطالبہ ہو رہا ہے کہ ایک کتاب ہی بالمقابل ان کتابوں کے تالیف کر کے دکھلائیں مگر کچھ نہیں کر سکے صرف مکہ کے کفار کی طرح یہی کہتے رہے کہ لَوْنَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَذَا کہ اگر ہم چاہیں تو اس کی مانند کہہ دیں۔لیکن جس حالت میں ان کو گالیاں دینے کے لئے تو خوب فرصت ہے تو پھر کیا وجہ کہ ایک عربی رسالہ کی تالیف کے لئے فرصت نہیں ہے اور جس حالت میں ہزاروں اشتہار گالیوں کے چھاپ کر شائع کر رہے ہیں تو پھر کیا وجہ کہ عربی کتاب کے چھاپنے کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔میں خیال نہیں کرتا کہ کوئی عاقل ایسے عذرات ان کے قبول کر سکے اور صرف چند فقرے ہیں ہزار فقروں میں سے پیش کر کے یہ کہنا کہ یہ مسروقہ ہیں یہ اس درجہ کی بے حیائی ہے جو بجز پیر مہر علی شاہ کے کون ایسا کمال دکھلا سکتا ہے۔اے نادان ! اگر علمی اور دینی کتابیں جو ہزارہا معارف اور حقائق پر مندرج ہوتی ہیں صرف فرضی افسانوں کی عبارتوں کے سرقہ سے تالیف ہو سکتی ہیں تو اس وقت تک کس (۱۸) رساله عربيه حقيقة المهدى (۱۹) رسالة الطاعون (۲۰) القصائد (۲۱)قصيده رساله هذا (۲۲) ایک رسالہ عربی بطور خط ہمراہ نظم اردو ممانعت جہاد مورخہ ۷/ جون ۱۹۰۰ء