حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 149
حیات احمد ۱۴۹ جلد پنجم حصہ دوم میرا تعلق اس سلسلہ میں پیر صاحب اور اس کے حمایتیوں کی قلمی اور قانونی جنگ میں اللہ تعالیٰ نے اس خاکسار کو میدان جنگ کے ہر پہلو میں حضرت اقدس کے پہلو بہ پہلو کھڑے رہنے کی سعادت بخشی اور اسی رفاقت کے برکات میں سے اس کو بھی حصہ ملا جیسا کہ اپنے موقعہ پر آئے گا۔یہ بھی اس کی خوش قسمتی ہے کہ اس کو اس جنگ میں ذاتی طور پر پیر صاحب اور اس کے رفقاء کے گھروں میں جا کر ان سے اپنے فرائض کو ادا کرنے کی تلقین کرنے کی توفیق ملی اور میرا وہاں سے صحیح وسلامت بیچ کر آ جانا بھی حضرت کا ایک اعجاز ہے۔اب بلا تاخیر میں سیف چشتیائی کا ذکر کرتا ہوں جو اس آخری جنگ میں پیر صاحب اور ان کے جنگی مشیروں کی رسوائی اور موت کا باعث ہوئی۔گولڑوی کی رسوائی کا سامان اس کے دوستوں نے پیدا کیا پیر صاحب گولڑوی کی علمی خود کشی کی تلوار خود ان کے دوستوں نے تیز کی اور یہ ایک عجیب بات ہے کہ اس سامان رسوائی کو بھی خود ان کے ہی دوستوں نے حضرت اقدس کے حضور پہنچایا اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت اقدس سیف چشتیائی پر کچھ تحریر فرمارہے تھے کہ موضع بھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم سے کچھ خطوط حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچے۔لکھنے والے مولوی محمد حسن کے رشتہ دار اور دوست یا شاگرد تھے۔حضرت اقدس کے ساتھ یہ سنت اللہ ہے کہ جس شخص نے آپ کے مقام امامت پر توہین آمیز رنگ میں حملہ کیا اسی رنگ میں وہ پکڑا گیا اور الہام اِنِّی مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ إِهَانَتَكَ“ کے تحت پکڑا گیا۔گولڑوی نے سرقہ کا الزام اعجاز المسیح کے متعلق شائع کیا اور وہ خود ہی اس الزام کا مستحق ثابت ہوا۔حضرت اقدس گولڑوی کے الزام سرقہ کا جواب دے رہے تھے کہ وہ خطوط پہنچے جو درج ذیل ہیں۔