حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 131
حیات احمد ۱۳۱ جلد پنجم حصہ دوم طرح کسی ادب کی کتاب کا مطالعہ ہو۔کسی فن کی کتاب میں انہماک و استغراق ہو یہ موقع کبھی آپ کے پیش آیا ہی نہیں عربی میں تصانیف کے اختیار کرنے کا محرک خود میں ہی ہوا۔میری ہی روح میں خدا تعالیٰ نے پہلے یہ جوش ڈالا کہ یہ آسمانی نعمت عربی کے ظروف میں عربوں کے آگے بھی پیش کی جاوے۔اس تحریک پر سب سے پہلے آپ نے تبلیغ لکھی جو آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ شامل ہے۔اس کیفیت کو میرا ہی دل خوب جانتا ہے جو اس پس و پیش اور تحیر کے نقشہ سے میں نے سمجھی جو میری اس درخواست پر آپ پر طاری ہوا۔کسی معصوم اور بے بناوٹ سادگی اور صفائی سے آپ نے فرمایا کہ بات تو بہت اچھی ہے مگر یہ کام بڑا نازک ہے میری بساط اور استعداد سے باہر ہے پھر کچھ سوچ کر فرمایا اچھا میں پہلے اردو میں مسودہ تیار کروں گا پھر میں اور آپ ( یہ عاجز راقم ) اور مولوی صاحب ( مولوی نورالدین صاحب) مل ملا کر اس کا ترجمہ عربی میں کر لیں گے۔تحریک تو ہو ہی چکی تھی رات کو قا در حکیم عزاسمہ کی طرف سے اس بارہ میں وحی ہوئی کہ عربی میں لکھیں اور معانی بھی آپ کو تسلی دی گئی کہ عربی زبان کے بہت سے حصہ پر آپ کو قبضہ مرحمت کیا گیا اور لکھنے کے وقت خود روح پاک آپ کی زبان اور قلم پر لغات عربی کو جاری کردے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا سب سے پہلی کتاب تبلیغ جس کی تالیف کے سارے زمانہ میں میں ساتھ رہا اور مجھے اس کے فارسی میں ترجمہ کرنے کا شرف حاصل ہوا ایسی فصیح بلیغ نکلی کہ ایک فاضل ادیب نے اسے پڑھ کر حضرت موعود کولکھا کہ تبلیغ کو پڑھ کر میرے دل میں آیا کہ سر کے بل رقص کرتا ہوا قادیان تک آؤں۔مولوی محمد حسین بٹالوی اور اس کے مثیلوں نے اس سے پہلے بہت شور مچا رکھا تھا کہ وہ ( حضرت موعود علیہ السلام ) عربی کا ایک صیغہ نہیں جانتے اور صرف ونحو اور فلاں فلاں علم سے قطعاً واقف نہیں اور فتویٰ تکفیر سے تھوڑی دیر قبل سیالکوٹ میں ہماری مسجد کے اندر جناب حکیم حسام الدین صاحب کے مقابل تکرار کرتے ہوئے غیظ و غضب میں بھر کر یہ کہا کہ مرزا ایک اردو خواں منشی ہے وہ عربی کیا جانتا ہے اس کی تعریف اور مدح میں اتنا مبالغہ کیا جاتا ہے میں اب جاتا ہوں اور اس کا بند و بست کرتا ہوں اور ایک دم میں اس کے سارے سلسلہ کوالٹا تا ہوں اسی دھمکی اور بخار کا سر جوش وہ