حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 132 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 132

حیات احمد ۱۳۲ جلد پنجم حصہ دوم تکفیر کا فتویٰ تھا جو اس کے تھوڑے دنوں بعد آپ کے قلم سے نکلا۔در حقیقت ان مولویوں کی بات سچ تھی اور ان کا یہ اعتراض اور انکار کہ آپ لسان عرب سے ماہر نہیں ان کی واقفیت اور علم پرمبنی تھا اور حقیقت میں مولویوں اور بڑے واقفیت حال کے مدعی مولوی محمد حسین کی گواہی کے بعد ضرورت نہیں کہ حضرت موعود کی اہمیت کی نسبت زیادہ ثبوت دیئے جائیں ان مولویوں کے چھوٹے بڑے اس وقت پکار کر یہی شکایت کرتے تھے کہ آپ مجدد دین ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور اسی دین کی لسان میں مہارت نہیں رکھتے اور فی الحقیقت اگر آپ کو لسان عربی کا علم نہ بخشا جاتا تو آپ کے لئے اور آپ کے تمام سلسلہ کے لئے شرم اور ماتم کی جگہ تھی اس لئے کہ عربی زبان کی واقفیت و مہارت ہی ایک ٹکٹ ہے جس کے وسیلہ سے خدا تعالیٰ کے حریم قدس میں جو قرآن کریم ہے باریابی کا شرف حاصل ہوسکتا ہے اور ایک مجدد مامور محدث مکلم۔۔۔۔مہدی ہو یا مسیح موعود ہو لازم ہے کہ قرآن کریم کا علم اسے سب لوگوں سے زیادہ ہومگر افسوس اور صد ہزار افسوس کہ جب غیور اور حکیم خدا نے ان کی شکایت رفع کر دی اور احسن طور پر رفع کر دی اور حضرت مامور کو اس پاک زبان کے تبحر میں عالمین پر سبقت اور فوق دے دیا اس پر بھی انہوں نے اعراض اور استکبار کیا اور خدا تعالیٰ کے اس نشان سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا۔ان کے نالہائے زار سے سمجھ میں آتا تھا کہ ایک ہی اور بہت بڑی شکایت انہیں ہے اور یہ بالکل آمادہ ہیں کہ اُس کے رفع پر اپنی غلط کاریوں اور نادانیوں کی اصلاح کرلیں گے مگر نہیں انہوں نے ایسا نہیں کیا اس وقت قد رتو فیق بین اور نصرت اور تائید خدا تعالیٰ کی طرف سے حق رکھتی تھی کہ یہی ایک بڑا نشان ان کے لئے ہو جاتی اور اس کے بعد کسی اور نشان کی تلاش اور مانگ ان میں باقی نہ رہتی۔میں حیران ہوں کہ سارے مولوی اور خود میں بھی ان کے ساتھ اس مرکز پر متفق تھا کہ در حقیقت آپ اُمی محض ہیں۔ان سب نے اور میں نے یکساں یہ نشان دیکھا کہ فصاحت و بلاغت عربی کا وہ معجزہ آپ کو دیا گیا کہ ہندوستان بھر کے ادباء وفضلاء اس کے مقابلہ اور اس کی مثل لانے سے عاجز آگئے مجھے اور میرے احباب کو خدائے کریم نے اس راہ سے ایمان اور عرفان میں روز افزوں قوت اور سکینت بخشی اور ان مولویوں کو طغیان اور حسد