حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 130 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 130

حیات احمد ۱۳۰ جلد پنجم حصہ دوم تحدی کی اُسی طرح جیسے اس سے پہلے فَأْتُوْا بِسُورَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ لے کی صدا میں کی گئی تھی ایک نا تو ان اور بے سامان اور قوم اور زمینوں کے مہجور ومتروک نے با سامان زمانہ کو مقابلہ کے لئے بلایا وہ کامیاب ہوا۔وہ اکیلا بلا مزاحمت مالی لے کر عزت کے ساتھ میدان سے نکلا اور اس کے تمام حریفوں نے جو اس کی بے عزتی کے لئے تڑپتے تھے خجالت اور ندامت کے نقابوں میں مسخ شدہ چہروں کو چھپا لیا۔کیا فرق ہے؟ کون سا مابه الإمتياز ہے۔اس تحری میں اس دعوی کے الفاظ میں جو حضرت مسیح موعود کی طرف سے شائع ہوئے اور اس میں جو فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِہ کے رنگ میں کیا گیا تھا؟ اے خدا نا ترس مخالف ! ناحق کے غضب سے پوستین کو مت پھیلا اور غیض کی جھاگ منہ پر مت لا ء اللہ تعالیٰ کے خوف کو مد نظر رکھ کر اور خوب سوچ کر کوئی لطیف فرق اور نازک امتیاز دکھا۔سن اور سمجھ لے کہ ان دونوں تحدیوں میں سرمو بھی فرق نہیں اور ضرور تھا کہ اس زمانہ میں بھی ایسی تحدی ہوتی اس لئے کہ وہ پہلا سر بستہ راز سمجھ میں آجاتا کہ کیونکر آسمانوں اور زمینوں کا مالک خدا صرف الوُجُوه کیا کرتا ہے میں نے حضرت امام علیہ السلام کوافی کہا ہے اللہ تعالی گواہ اور آگاہ ہے کہ میں نے مبالغہ اور اطراء سے کام نہیں لیا وَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ الْمَادِحِيْنَ الْمُطْرِيْنَ الَّذِينَ يَقُولُونَ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ وَلَا فِي مَمْدُو حِهِمْ میں خوب جانتا ہوں کہ آج زمانہ میں علم اور فن اور فضل کا کیا چر چا اور کیسا سامان اور کسی فن میں کمالات حاصل کرنے کے لئے کیا کیا تحریکات اور مواد ہیں۔اور میں خوب جانتا ہوں کہ کس طرح ادباء ادب کی تحصیل میں اور دوسرے علوم کے شیدا ان علوم میں دستگاہ پیدا کرنے کے لئے جان توڑ کر سعی کر رہے ہیں اور بہت سے اُن میں اپنے مقاصد میں کامیاب بھی ہیں حضرت حجتہ اللہ آیۃ اللہ کو دیکھتا ہوں اور برسوں سے دیکھتا ہوں کہ ہر رنگ میں ہرفن میں اور ہر حال میں امتیت آپ پر غالب ہے آپ کے قلب کی بناوٹ ایسی بنائی گئی ہے اور آپ کے پیش نہاد مقاصد اور مطالح ایسے رکھے گئے ہیں کہ اُس لا زوال ذوالجلال قبلہ کے سوا اور طرف رُخ توجہ پھیر ہی نہیں سکتے۔کبھی ایک ادیب کی البقرة: ٢٤