حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 113 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 113

حیات احمد ١١٣ جلد پنجم حصہ دوم کوئی اُس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اُس کو پاوے ثمر وہ جو مرتا ہے وہی زندوں میں جاوے جو جلتا ہے وہی مُردے جلاوے ہے دور کا کب غیر کھاوے چلو اوپر کو نیچے نہ آوے نہاں اندر نہاں ہے کون لاوے غریق عشق وہ موتی اُٹھاوے وہ دیکھے نیستی رحمت دکھاوے خودی اور خودروی کب اس کو بھاوے مجھے تو نے دولت اے خدا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي کہاں تک حرص و شوق مال فانی! اٹھو ڈھونڈو متاع آسمانی آمانی سو سو چھید ہیں تم میں نہانی کہاں تک جوش آمال و تو پھر کیونکر ملے وہ یار جانی کہاں غربال میں رہتا ہے پانی کرو کچھ فکر ملک جاودانی ملک و مال جھوٹی کہانی ہے بسر کرتے ہو غفلت میں جوانی مگر دل میں یہی تم نے ہے ٹھانی خدا کی ایک بھی تم نے نہ مانی ذرا سوچو یہی ہے زندگانی؟ خُدا نے اپنی رہ مُجھ کو بتا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي کرو تو بہ کہ تا ہو جائے رحمت دکھاؤ جلد تر صدق و انابت کھڑی ہے سر پہ ایسی ایک ساعت که یاد آجائے گی جس سے قیامت مجھے یہ بات مولی نے بتا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي مسلمانوں تب ادبار آیا! تعلیم قرآں کو بُھلایا رسُول حق کو مٹی میں سلایا مسیحا کو فلک پر ہے بٹھایا