حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 112 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 112

حیات احمد ۱۱۲ جلد پنجم حصہ دوم کہیں جو کچھ کہیں سر پر خدا ہے جو پر فدا ہے۔پھر آخر ایک دن روز جزا ہے کا پھل بدی اور نامرادی بدی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي تجھے سب زور و قدرت ہے خدایا تجھے پایا ہر اک مطلب کو پایا دلبر سمایا ہر اک عاشق نے ہمارے دل میں اک بت بنایا ہے وہی آرام جاں اور دل کو بھایا وہی جس کو کہیں رَبُّ الْبَرَايَا ہوا ظاہر وہ مجھ پر بالايادي فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي مجھے اس یار سے پیوند جاں ہے وہی حجت، وہی دار الاماں ہے بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا راوں ہے کیا احساں ہیں تیرے میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي تیری رحمت کی کچھ قلت نہیں ہے تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے ہے شمار فضل اور رحمت نہیں ہے مجھے آب شکر کی طاقت نہیں یہ کیا احساں ہیں تیرے میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي ترے کوچے میں رکن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں خُدائی ہے خودی جس سے جلاؤں محبت چیز کیا کس کو بتاؤں وفا کیا راز ہے کس کو سُناؤں میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں یہی بہتر کہ خاک اپنی اُڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دنیائے مادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي