حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 111
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم تجھے دنیا میں ہے کس نے پکارا کہ پھر خالی گیا قسمت کا مارا تو پھر ہے رکس قدر اس کو سہارا کہ جس کا تو ہی ہے سب سے پیارا ہوا میں تیرے فضلوں کا منادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي میں کیونکر گن سکوں تیری عنایات تیرے فضلوں سے پر ہیں میرے دن رات میری خاطر دکھائیں تو نے آیات ترخم سے مری سن لی ہر اک بات کرم سے تیرے دشمن ہو گئے مات عطا کیں تو نے سب میری مرادات پڑا پیچھے جو میرے جو میرے غُول بدذات پڑی آخر خود اس موذی یہ آفات ہوا انجام کا نامرادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي بنائی تو نے پیارے میری ہر بات دکھائے تو نے احسان اپنے دن رات ہر اک میداں میں دیں تو نے فتوحات بد اندیشوں کو تو نے کر دیا مات ہر اک پگڑی ہوئی تو نے بنا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَّا عَادِي تری نصرت سے اب دشمن تبہ ہے ہر اک جا میں ہماری تو پسند ہے ہر اک بدخواہ اب کیوں روسیہ ہے کہ وہ مثل خسوف مہرومہ ہے سیاہی چاند کی منہ نے دکھا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الَا عَادِي ترے فضلوں سے جاں بستاں سرا ہے ترے نوروں سے دل شمس الضحی ہے اگر اندھوں کو انکار و اباء ہے وہ کیا جانیں کہ اس سینہ میں کیا ہے