حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 106 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 106

حیات احمد 1+4 جلد پنجم حصہ دوم ایک ضمنی واقعہ ۱۹۱۲ء میں رشید رضا ندوۃ کے سالانہ اجلاس میں لکھنؤ آیا اور ندوۃ العلماء نے سارے مصر میں اس کو اس قابل سمجھا کہ علماء ہند کی جمیعت کے اجلاس کا اس کو صدر بنایا جاوے اس اجلاس میں (عاجز راقم ) بھی جماعت احمدیہ کے وفد کے ایک رکن کی حیثیت سے شامل تھا۔مجھے اس جلسہ کے حالات بیان کرنا نہیں وہ میں نے الحکم میں مجمل طور پر شائع کر دیئے تھے۔یہاں ایک واقعہ کا اظہار ہے خاکسار راقم الحروف اپنے بعض بزرگوں کے ساتھ ( جو علمی حیثیت سے اعلیٰ مقام رکھتے تھے) رشید رضا سے ملنے گیا اور میں نے ان سے سوال کیا کہ مصر کی عربی زبان تو یہاں کے اردو کے موافق ہے اس میں فصاحت و بلاغت کا عنصر کم ہوتا جاتا ہے روزمرہ کی بول چال لِسَانُ الْقُرآن سے مغائر ہے یہاں تک کہ الفاظ کا تلفظ بھی بگڑ گیا یہ بتائیے کہ لسان القرآن کی حفاظت کا آپ نے کیا انتظام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ لغت ہیں۔میں نے کہا کہ وہ الفاظ جواب آپ کے بازار اور آپ کے اخبارات آپ کی زبان سیاست میں بولے جاتے ہیں آج سے پچاس یا سو برس کے بعد اسان یا تاج العروس میں دیکھیں گے تو ملیں گے نہیں پھر لغت کیا مدد دے گی ؟ کہا معاملہ ضروری ہے میں نے غور نہیں کیا۔اس کے بعد چند منٹ بیٹھ کر کہا مجھے زیادہ فرصت نہیں اور احباب بھی ہیں السلام علیکم غرض اس علمی ، ادبی اور حقائق و معارف قرآنیہ کے مقابلہ میں چیلنج میں مصر کے ممتاز عالم اور اس کے اتباع وانصار بھی شکست کھا گئے اور حضرت اقدس کے اس اعلان کی صداقت کا پھر ظہور ہوا کہ آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل پر بلایا ہم نے اور یہ کرشمہ صداقت کا تھا جو آپ کی وحی میں اللہ تعالیٰ نے بطور پیشگوئی رکھا ہوا تھا۔