حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 105
حیات احمد ۱۰۵ جلد پنجم حصہ دوم حضرت اقدس نے المنار کے جواب کا انتظار کیا لیکن جب صدائے برنخواست کا معاملہ ہوا تو آپ نے اتمام حجت کے لئے ایک اور مخصوص تصنیف عربی زبان میں اس کے لئے لکھی اور اس میں اس کو دوبارہ چیلنج دیا کہ وہ مقابلہ کرے۔اور ۲۳ جون ۱۹۰۲ء الْهُدَى وَ التَّبْصِرَةُ لِمَنْ يَّری کے نام سے فصیح و بلیغ عربی زبان میں لکھی اور اس کا آپ نے تحت السطور اردو ترجمہ بھی فرمایا تا کہ ہندوستان کے رہنے والے بھی اس سے فائدہ اٹھا ئیں اور انہیں معلوم ہو کہ کتاب معمولی تک بندی نہیں بلکہ حقائق و معارف اور عالم اسلامی کی حالت پر ایک اتھارٹی ہے اور اس طرح پر مختلف عنوانوں کے تحت زبان کے مختلف پہلوؤں کے بیان پر قدرت اور حکومت کا اعجازی اظہار ہوتا ہے۔اس کتاب میں آپ نے مکرر ایڈ میٹ المنار سے مطالبہ کیا کہ اعجاز مسیح کی ان اغلاط کو پیش کر ہے جن کا اس نے دعوی کیا ہے اور رشید رضا کو اس پر کچھ لکھنے یا کہنے کی ہمت نہ ہوئی اور اس طرح پر اعجاز امسیح کا یہ دوسرا معجزہ دیار مصر میں ظاہر ہوا۔یہ کتاب بظاہر ایک ادبی چیلنج ہے مگر اس سے مسلمانوں کے تمام طبقات کو آئینہ کر دیا ہے۔مشائخ ، علماء، اخبار نویس اور ہر قسم کے طبقات کی موجودہ حالت کو بیان کر کے گویا اس بیماری کی نشاندہی کی ہے جو اس زمانہ میں مسلمانوں کی پستی اور زوال پذیر حالت کی وجہ قرآن کریم کی اس غیر فانی اور دائمی پیشگوئی حفاظت قرآن و اسلام کے وعدہ کو اپنے ظہور کے رنگ میں پیش کیا ہے۔غرض یہ کتاب شائع ہوئی اور حسب معمول بلاد عر بیہ اور مصر وغیرہ میں بکثرت شائع ہوئی۔رشید رضا مر گیا اور اس مقابلہ میں عاجز آ کر اعجاز المسیح اور الھدی کے معجزہ پر اپنی موت سے مہر کر گیا۔