حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 98
حیات احمد ۹۸ جلد پنجم حصہ دوم کام کرے ہم دعوے سے کہتے ہیں اور دانشمند اور مدبر انگریزوں نے بھی اسے تسلیم کیا ہے کہ مسیح موعود اور اس کی جماعت گورنمنٹ انگلشیہ کی کچی وفادار اور فرماں پذیر ہے اور نہ کسی دنیوی خیال سے نہ کسی لالچ کی بنا پر بلکہ محض اس لئے کہ خدا نے ایسی محسن گورنمنٹ کی وفاداری اور اطاعت کا حکم دیا ہے۔پس مسیح موعود کی تعلیم جو جہاد کے خلاف ہے نہ وہ کسی خوشامد پر مبنی ہے اور نہ کسی خطاب کے لئے ہے بلکہ خدا کے حکم کی تعمیل کے لئے ہے اس سے صاف سمجھ میں آسکتا ہے کہ اس کی یہ تعلیم مذہب کی مستحکم چٹان پر ہے جس کو کوئی ہلا نہیں سکتا۔گورنمنٹ اندازہ کر سکتی ہے اور ہم ایسی دانشمند اور قدردان گورنمنٹ کی شان کے خلاف سمجھتے ہیں کہ وہ ان معاملات پر غور نہ کرے کہ حضرت مرزا صاحب کی مخالفت کی اصل بنا یہی جہاد کے خلاف تعلیم ہے اور گورنمنٹ کی اطاعت کو قرآنی حکم کے نیچے لانا ہے۔باقی اور جس قدر با تیں ہیں کہ انہوں نے فلاں دعویٰ کیا ہے یا ان کے فلاں عقائد ہیں یہ نرے بہانے ہیں۔کیا مسلمانوں میں فاسق و فاجر موجود نہیں ؟ کیا مسلمانوں میں حضرت علیؓ کو خدا سمجھنے والے موجود نہیں؟ کیا صحابہ پر لعن کرنے والے موجود نہیں؟ اور مختلف فرقے موجود نہیں؟ پھر کس پر اس قدر مخالفت کا شور اٹھایا جاتا ہے؟ ایک پر بھی نہیں۔اس میں یہی راز ہے کہ انہوں نے جہاد کے حرام ہونے کا۔انہوں نے گورنمنٹ کو اولوالامر میں داخل نہیں کیا گورنمنٹ چاہے تو علماء سے فتویٰ پوچھ سکتی ہے کہ مسیح موعود اور اس کی جماعت کے سوا کوئی اور بھی ہے جو گورنمنٹ کی اطاعت اس لحاظ سے کرنے والا ہو کہ وہ اولوالامر ہے اور اولوالامر کی اطاعت خدا کا حکم ہے؟ ہم پھر اشتہار کے اندراج سے پہلے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہماری مخالفت میں جو گندے اور ناپاک اشتہار نکالے جاتے ہیں اور ہمارے قتل اور کفر اور ہمارے مال و اسباب کے لوٹ لینے کے فتوے دیئے جاتے ہیں اُس کی بنیاد صرف یہی ایک بات ہے کہ ہمارا مذہب یہ ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ جہاد حرام ہے اور اس کی اطاعت خدا کے اس حکم کے موافق ہے جو اولوالامر کی اطاعت کا اس نے دیا ہے۔ہم گورنمنٹ کی اطاعت اور وفاداری میں خدا تعالیٰ کی رضا سمجھتے ہیں۔اس لئے ہمیں اس امر کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان خدمات کے لحاظ سے جو احمدی قوم کے لیڈر کی