حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 97
حیات احمد ۹۷ جلد پنجم حصہ دوم المنار ذیل میں ہم مندرجہ بالا عنوان کا وہ اشتہار درج کرتے ہیں جو ۱۸ نومبر ۱۹۰۱ء کو حضرت اقدس حُجَّةُ اللهِ عَلَى الْأَرض مسیح موعود أَدَامَ اللَّهُ فَيُوْضَهُمُ کی طرف سے شائع کیا گیا ہے ہمارے ناظرین بخوبی اس امر سے آگاہ ہو چکے ہیں کہ المنار مصری پندرہ روزہ نے کتاب اعجاز المسیح پر کسی قدر نکتہ چینی کی تھی جس کو پنجاب کے ایک سرحدی اخبار چودھویں صدی نے شائع کیا تھا اور اس سے لے کر میرٹھ کے سیاہ دشمن شحنہ ہند نے اپنے ضمیمہ میں درج کیا تھا۔اس اشتہار ( جو حضرت اقدس نے شائع کیا ہے ) سے بھی معلوم ہوتا ہے اور اصل وجہ مخالفت بھی یہی ہے کہ چونکہ حضرت جَرِيٌّ اللهِ فِي حُلَلِ الانبیاء کی فطرت میں گورنمنٹ محسنہ برطانیہ کی خیر خواہی اور وفا داری موجود ہے اور انہوں نے کوئی ایک بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جبکہ انہوں نے جہاد کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کی سعی نہ کی ہو جو مسلمانوں کی بدقسمتی سے بعض پرانے فیشن کے علماء کے دل میں بیٹھی ہوئی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی تعلیم اور شرائط بیعت میں گورنمنٹ برطانیہ کی وفاداری کو شامل کیا ہے۔اس لئے وہ لوگ جو مسیح موعود اور مہدی معہود کے خونریز جنگوں اور پھر بے قیاس مال و منال کے ہاتھ آنے پر دامن طمع پھیلائے بیٹھے تھے اس کی ان تحریروں سے ناراض اور کبیدہ خاطر ہو کر کفر اور قتل کے فتوے نہ دیں تو کیا کریں؟ طمع را سه حرفت ہر سہ تہی مگر جو بات حق ہے اور خدا تعالیٰ نے جب هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ لِ فرمایا ہے تو پھر مخالف خواہ مصر کے ہوں خواہ سرحد کے خواہ میرٹھ جیسے شہر کے جہاں سے ۱۸۵۷ء کے مکروہ اور بھیا نک نظارے کا آغاز ہوا ہم ان کی مخالفتوں اور قتل کی دھمکیوں اور نا پاک فتووں کی ذرا بھی پرواہ نہ کر کے امر حق کے اظہار سے کبھی رک نہیں سکتے۔مسیح موعود دنیا میں آیا ہے کہ وہ امن اور صلح کاری کو قائم کرے وہ آیا ہے کہ گورنمنٹ کے ساتھ مسلمانوں کو بچے اور مستحکم تعلقات کی تعلیم دے جن کے اندروفا داری اور فرماں برداری کی روح الرحمن : ٦١