حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 99
حیات احمد ۹۹ جلد پنجم حصہ دوم طرف سے ( جو گورنمنٹ کے ایک وفادار اور ارادت مند خاندان ) کی یادگار ہے پچیس سال سے مسلمانوں کو جہاد کے متعلق غلط فہمیوں کے دور کرنے اور گورنمنٹ کی سچی اطاعت کے رشتہ میں منسلک کرنے کے متعلق ہو رہی ہیں گورنمنٹ سے کسی خطاب یا اجر کی امید رکھیں حالانکہ گورنمنٹ خوب جانتی ہے کہ کوئی آدمی ذراسی خدمت بھی اگر کرتا ہے تو وہ کیسے خطابوں کی یا جاگیروں کے عطایا کی امید رکھتا ہے ہاں یہ امر جدا ہے کہ گورنمنٹ خود اپنی قدردانی اور انصاف پژوہی سے اپنے ایک وفادار اور عقیدت مند خاندان کی یاد گار کی قدر افزائی کر کے اپنی اعلیٰ حوصلگی کا ثبوت دے۔مگر ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ ہمارا ہادی ان باتوں کی ذرا بھی پرواہ نہیں رکھتا ہم گورنمنٹ کی ساری عطوفتوں اور کرم فرمائیوں کی اسے جان سمجھتے ہیں۔ہمارا جان و مال ہماری عزتیں خدا تعالیٰ نے اس محسن گورنمنٹ کے ذریعہ محفوظ کر دی ہیں اور ہمیں آزادی بخشی کہ ہم ان سچی اور پاک ہدایتوں کو جو ہمارا امام لے کر آیا ہے مشتہر کر سکیں۔اور محض اس گورنمنٹ کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ہم کو ان درندہ طبع لوگوں سے بچایا جو ہمارے خون حلال جانتے اور ہمارے مال و اسباب اور عورتوں تک کو چھین لینے میں ثواب سمجھتے تھے۔پس ہمارے مخالف یا د رکھیں کہ ہم ان کی ان مخالفتوں سے ذرا بھی گھبرا نہ جائیں گے اور نہ تھکیں گے چونکہ ان مسائل اور معتقدات کے متعلق ہم بصیرت پر ہیں اس لئے ہم تمہارے فتووں اور قتل کی دھمکیوں کی ذرا بھی پروا نہ کرتے ہوئے بلاد اسلامیہ میں اور ہر مسلمان کے کان میں یہ تعلیم انشاء اللہ پہنچادیں گے کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ جہاد کا خیال رکھنا نا قابل عفو گناہ ہے اور اس کی اطاعت بالمعروف خدا تعالیٰ کی رضا مندی کا ایک ذریعہ ہے یہ باتیں ہم نے خصوصیت کے ساتھ اس لئے بھی ظاہر کی ہیں کہ ہم اپنے ضلع کے بیدار مغز ڈپٹی کمشنر جناب میجر ڈالس صاحب کے گوش گزار کریں تا اُن کو ہمارے مخالفوں کی راؤں کی توزین میں مدد ملے ہمیں پوری امید ہے کہ صاحب ممدوح الحکم کی معروضات پر پوری توجہ اور لحاظ فرماتے رہیں گے اب ہم اصل اشتہار کو ذیل میں درج کرتے ہیں۔(ایڈیٹر ) (الحکم مورخه ۳۰ /نومبر ۱۹۰۱ء صفحه ۴ ، ۵ )