حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 93 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 93

حیات احمد ۹۳ جلد پنجم حصہ دوم اور نہ اس قصبہ کو کوئی جانتا تھا مگر کس نے آپ کو تحریک کی کہ قادیان چلو اور مجھ سے آ کر ملو۔یہ سن کر مسٹر ڈکسن اور خصوصاً ان کی اہلیہ پر بڑا اثر ہوا۔الہام میں دور کے راستوں سے آنا کیا بتاتا ہے اور آپ خود بہت بڑا سفر کر کے آئے ہیں۔اس قسم کے بے شمار نشان ہیں جو میری سچائی کا ثبوت ہیں۔وہ خبریں جو اللہ تعالیٰ نے بطور پیشن گوئی مجھے قبل از وقت بتائیں اور وہ ایسے وقت اور حالات میں کہ کوئی یقین کیا وہم بھی نہیں کر سکتا تھا مگر ٹھیک اُس طرح پوری ہوئیں۔آپ کا قیام زیادہ نہیں اور ابھی آپ جا رہے ہیں ورنہ بیسیوں نشانات پیش کرتا۔یہاں کا ہر آدمی جو میرے پاس مختلف مقامات سے آیا ہے ایک زندہ نشان ہے۔اس کے بعد روانگی کے لئے آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور مہمان کو الوداع کہنے کے لئے آپ اپنی جماعت کے ساتھ بٹالہ کی طرف روانہ ہوئے اور برابر سلسلہ کلام و تبلیغ جاری رہا۔آج ترجمانی کا کام مکرم محمد علی صاحب ایم۔اے مغفور و مرحوم نے سر انجام دیا اور حضرت اقدس کی خوشنودی کا موجب ہوا۔اس روانگی پر مندرجہ ذیل نوٹ بطور خبر میں نے شائع کر دیا:۔۱۸ نومبر ۱۹۰۱ء کو ڈی۔ڈی ڈکسن صاحب یورپین سیاح کو دارالامان سے وداع ہونا تھا اس لئے آج حضرت اقدس بٹالہ ہی کی طرف سیر کو نکلے اور برابر نہر کے پل تک تشریف لے گئے۔راستے میں جو تقریر حضرت اقدس نے بطور تبلیغ سیاح مذکور کو فرمائی اسے ہم انشاء اللہ العزیز دوسرے وقت شائع کریں گے۔یہاں ہم بعض ان امور کا ذکر کرتے ہیں جو اس تقریر میں نہ آئیں گے۔حضرت اقدس کے اس قدر دور تک پیادہ تشریف لے جانے پر اُسے حضرت کے سن و سال پر نگاہ کر کے تعجب معلوم ہوا جس پر اُسے بتایا گیا کہ یہ آنحضرت کا معمول ہے۔سیاح مذکور حضرت اقدس کے حسن سلوک اور مہمانداری اور اس دینی جوش کے لئے جو وہ تبلیغ مذہب کے لئے رکھتے ہیں بہت متعجب اور آپ کا از بس شکر گزار تھا۔جب حضرت اقدس وہ تقریر کر چکے جس کے ترجمان مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے